صحیح بخاری حدیث ۳۷۶۷ - فاطمہ رضی اللہ عنہا میرے جسم کا حصہ ہیں

فاطمہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت: میرے جسم کا ایک ٹکڑا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۶۷

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فَاطِمَةُ بِضْعَةٌ مِنِّي فَمَنْ أَغْضَبَهَا أَغْضَبَنِي " .

مسور بن مخرمہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فاطمہ میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔

صحیح بخاری حدیث ۳۷۶۷ کا خلاصہ

یہ حدیث فاطمہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت پر بہت واضح اور دل کو چھونے والی روایت ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ فاطمہ میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے، جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔ اس حدیث میں بیٹی کے مقام، اہل بیت کی عزت، اور فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ادب کا صاف پیغام ہے۔ متن میں صرف یہی بات بیان ہوئی ہے، اس لیے اسے اسی دائرے میں سمجھنا چاہیے۔ یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی محبوب بیٹی کے بارے میں زبان، دل اور رویے میں بہت احتیاط رکھی جائے۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث، اہل بیت کی فضیلت، اور نبی صلى الله عليه وسلم کی محبت اس روایت کے اہم الفاظ ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مقام نبی صلى الله عليه وسلم کے نزدیک بہت بلند تھا۔
  • اہل بیت کے بارے میں ادب اور احترام لازم ہے۔
  • کسی کو تکلیف دینا معمولی بات نہیں، خاص طور پر نبی صلى الله عليه وسلم کے گھرانے سے متعلق۔
  • محبت کا تقاضا ہے کہ زبان اور عمل میں احتیاط رکھی جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں