صحیح بخاری حدیث ۳۷۶۸ - جبرائیل علیہ السلام کا عائشہ رضی اللہ عنہا کو سلام
عائشہ رضی اللہ عنہا کو جبرائیل علیہ السلام کا سلام
صحیح بخاری : ۳۷۶۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۶۸
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : إِنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا : " يَا عَائِشَ هَذَا جِبْرِيلُ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ " ، فَقُلْتُ : وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ , تَرَى مَا لَا أَرَى , تُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا ”اے عائش یہ جبرائیل علیہ السلام تشریف فرما ہیں اور تمہیں سلام کہتے ہیں“ میں نے اس پر جواب دیا وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، آپ وہ چیز ملاحظہ فرماتے ہیں جو مجھ کو نظر نہیں آتی (آپ کی مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی)۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۶۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک خاص فضیلت بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اے عائش، یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں اور تمہیں سلام کہتے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ پھر انہوں نے کہا کہ آپ وہ چیز دیکھتے ہیں جو میں نہیں دیکھتی، اور ان کی مراد نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے تھی۔ اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا کا مقام، سلام کا جواب، اور نبی صلى الله عليه وسلم کو عطا ہونے والی خاص خبر کا ذکر ہے۔ یہاں ہمیں کوئی لمبی بحث نہیں ملتی، بلکہ ایک سادہ اور پاکیزہ واقعہ ملتا ہے جو عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کو ظاہر کرتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سلام کا جواب اچھے اور مکمل الفاظ میں دینا ادب ہے۔
- عائشہ رضی اللہ عنہا کو جبرائیل علیہ السلام کی طرف سے سلام پہنچا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کو وہ امور دکھائے جاتے تھے جو عام لوگوں کو نظر نہیں آتے تھے۔
- صحابہ اور امہات المؤمنین کا مقام احترام کے ساتھ بیان کرنا چاہیے۔
