صحیح مسلم حدیث ۲۴۴۷ - تقسیم میں عدل پر اعتراض

عدل کی حدیث: اللہ اور رسول صلى الله عليه وسلم کے فیصلے پر بدگمانی سے بچنا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۴۷

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وإسحاق بن إبراهيم ، قَالَ إسحاق أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ ، آثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا فِي الْقِسْمَةِ ، فَأَعْطَى الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ ، وَأَعْطَى عُيَيْنَةَ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَأَعْطَى أُنَاسًا مِنْ أَشْرَافِ الْعَرَبِ ، وَآثَرَهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْقِسْمَةِ ، فَقَالَ رَجُلٌ : وَاللَّهِ إِنَّ هَذِهِ لَقِسْمَةٌ مَا عُدِلَ فِيهَا ، وَمَا أُرِيدَ فِيهَا وَجْهُ اللَّهِ ، قَالَ : فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ ، قَالَ : فَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ حَتَّى كَانَ كَالصِّرْفِ ، ثُمَّ قَالَ : " فَمَنْ يَعْدِلُ إِنْ لَمْ يَعْدِلِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ؟ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى قَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ " ، قَالَ : قُلْتُ : لَا جَرَمَ ، لَا أَرْفَعُ إِلَيْهِ بَعْدَهَا حَدِيثًا .

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب حنین کا دن ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند لوگوں کو غنیمت کا مال زیادہ دیا چنانچہ اقرع بن حابس کو سو اونٹ دیے اور عیینہ کو بھی ایسے ہی اور چند آدمیوں کو سردارانِ عرب سے ایسا ہی کچھ دیا اور لوگوں سے ان کو مقدم کیا تقسیم میں۔ سو ایک شخص نے کہا: اللہ کی قسم! یہ تقسیم ایسی ہے کہ اس میں عدل نہیں ہے اور اس میں اللہ کی رضا مندی مقصود نہیں۔ تو میں نے اپنے دل میں کہا کہ اللہ کی قسم! میں اس کی خبر دوں گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ بدل گیا جیسے خون ہوتا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون عدل کرے گا اگر اللہ اور اس کا رسول عدل نہ کرے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ رحم کرے موسیٰ علیہ السلام پر کہ ان کو اس سے زیادہ ستایا گیا مگر انہوں نے صبر کیا۔“ اور میں نے اپنے دل میں کہا کہ آج سے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بات کی خبر نہ دوں گا (اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں تکلیف ہوتی ہے)۔

صحیح مسلم حدیث ۲۴۴۷ کا خلاصہ

یہ عدل کی حدیث حنین کے مال کی تقسیم کے پس منظر میں آتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے بعض سرداران عرب کو زیادہ مال دیا، جیسے اقرع بن حابس اور عیینہ کو سو سو اونٹ۔ ایک شخص نے سخت الفاظ میں کہا کہ یہ تقسیم عدل والی نہیں اور اس میں اللہ کی رضا مقصود نہیں۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات نبی صلى الله عليه وسلم کو بتائی تو آپ صلى الله عليه وسلم کے چہرے پر تکلیف ظاہر ہوئی۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر اللہ اور اس کا رسول عدل نہ کرے تو پھر کون عدل کرے گا۔ اس کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے موسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا کہ انہیں اس سے زیادہ ستایا گیا مگر انہوں نے صبر کیا۔ اس روایت کا اصل سبق یہ ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کے فیصلے پر بے ادبی اور بدگمانی بہت سنگین بات ہے، اور تکلیف دہ بات کے جواب میں صبر بھی انبیاء کی سنت میں آتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی تقسیم کو بے عدلی کہنا بہت سخت بات تھی۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے اللہ اور رسول کے عدل کو واضح فرمایا۔
  • تکلیف پہنچنے پر موسیٰ علیہ السلام کے صبر کا ذکر فرمایا گیا۔
  • بدگمانی اور بے ادب الفاظ سے بچنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں