صحیح مسلم حدیث ۲۴۴۸ - اذیت پر صبر کی نبوی مثال

اذیت پر صبر کی حدیث: موسیٰ علیہ السلام کی مثال

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۴۸

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا ، فَقَالَ رَجُلٌ : إِنَّهَا لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ ، قَالَ : فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَارَرْتُهُ ، فَغَضِبَ مِنْ ذَلِكَ غَضَبًا شَدِيدًا وَاحْمَرَّ وَجْهُهُ ، حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَذْكُرْهُ لَهُ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : " قَدْ أَوُذِيَ مُوسَى بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ " .

عبداللہ روایت:

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مال بانٹا اور ایک شخص نے کہا کہ یہ تقسیم ایسی ہے کہ اللہ کی رضا مندی اس سے مقصود نہیں پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر چپکے سے کہہ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت غصہ ہوئے اور چہرہ آپ کا لال ہو گیا اور میں نے آرزو کی کہ کاش اس کا ذکر نہ کیا ہوتا تو خوب ہوتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام کو اس سے زیادہ ستایا اور انہوں نے صبر کیا (موسیٰ علیہ السلام پردہ میں چھپ کر نہاتے تھے جاہلوں نے کہا: ان کے انثیین بڑے ہیں ایک بار پتھر پر کپڑے رکھ دئیے وہ بھاگا۔ آپ اس کے پیچھے دوڑے لوگوں نے دیکھ لیا کہ کچھ عیب نہیں اور جب ہارون علیہ السلام کا انتقال ہوا ان کا جنازہ آسمان پر ملائکہ لے گئے۔ جاہلوں نے کہا: انہوں نے ان کو حسد سے مار ڈالا آخر وہ ایک تخت پر آسمان سے ظاہر ہوئے اور انہوں نے کہا کہ موسیٰ علیہ السلام نے مجھے نہیں مارا۔ غرض اس طرح ہمیشہ جاہل لوگ انبیاء، علماء کو بدنام کرتے چلے آئے ہیں خدام حدیث اور وارثان علم رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ صبر کرتے رہے ہیں)۔

صحیح مسلم حدیث ۲۴۴۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک شخص کے اعتراض کا ذکر ہے جس نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی تقسیم کے بارے میں کہا کہ اس سے اللہ کی رضا مقصود نہیں۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات نبی صلى الله عليه وسلم کو آہستہ سے بتائی۔ روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم بہت ناراض ہوئے اور آپ صلى الله عليه وسلم کا چہرہ سرخ ہو گیا، یہاں تک کہ بیان کرنے والے کو خیال آیا کہ کاش میں نے یہ بات نہ کہی ہوتی۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے موسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ انہیں اس سے زیادہ ستایا گیا اور انہوں نے صبر کیا۔ یہ صبر کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ حق پر ہونے کے باوجود تکلیف دہ باتیں سننا آسان نہیں ہوتا۔ نبی صلى الله عليه وسلم کو بات ناگوار گزری، مگر جواب میں صبر کی ایک نبوی مثال بیان کی۔ اس متن سے یہی سمجھ آتا ہے کہ ناحق الزام دل کو تکلیف دیتا ہے، اور صبر اس موقع پر بڑی خوبی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ناحق اعتراض رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے لیے تکلیف کا سبب بنا۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے موسیٰ علیہ السلام کے صبر کا ذکر فرمایا۔
  • غصہ آنے کے باوجود بات کو صبر کی طرف موڑا گیا۔
  • دوسروں کے بارے میں سخت بات پہنچانے میں احتیاط بھی محسوس ہوتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں