صحیح مسلم حدیث ۲۴۴۹ - عدل کرو کہنے والے کا واقعہ
عدل کرو والی حدیث: نبی صلى الله عليه وسلم کے فیصلے پر اعتراض کا انجام
صحیح مسلم : ۲۴۴۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۴۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ مُنْصَرَفَهُ مِنْ حُنَيْنٍ ، وَفِي ثَوْبِ بِلَالٍ فِضَّةٌ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبِضُ مِنْهَا يُعْطِي النَّاسَ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ اعْدِلْ ، قَالَ : " وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَكُنْ أَعْدِلُ لَقَدْ خِبْتَ وَخَسِرْتَ إِنْ لَمْ أَكُنْ أَعْدِلُ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَقْتُلَ هَذَا الْمُنَافِقَ ، فَقَالَ : مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنِّي أَقْتُلُ أَصْحَابِي ، إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ ، لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنْهُ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ " ،
جابر بن عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے جب حنین سے لوٹے تھے اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں کچھ چاندی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مٹھی سے لے لے کر بانٹتے تھے اور لوگوں کو دیتے تھے تو ایک شخص آیا اور اس نے کہا: عدل کرو اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون عدل کرے گا اگر میں عدل نہ کروں اور تو تو بڑا بدنصیب اور بڑا نقصان والا ہو گیا اگر میں عدل نہ کروں۔“ (یعنی تو مجھے نبی سمجھ کر ایمان لایا اور جب میں ظالم ٹھہرا تو تیرا کہاں ٹھکانا لگے گا) اس پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ مجھے فرمائیے کہ میں اس منافق کو مار ڈالوں اللہ کے رسول۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی پناہ لوگ کہیں گے کہ میں اپنے رفیقوں کو مارتا ہوں۔ (معلوم ہوا کہ زبان خلق سے بچنا چاہیے) اور یہ شخص اور اس کے یار قرآن کو پڑھیں گے اور قرآن ان کے گلوں سے نہ اترے گا (یعنی دل میں اثر نہ کرے گا) اور قرآن سے نکل جائیں گے جیسے تیر نکل جاتا ہے شکار سے۔“ (بعض وقت زور سے تیر مارو تو پار ہو جاتا ہے اور اس میں خون نہیں بھرتا)۔
صحیح مسلم حدیث ۲۴۴۹ کا خلاصہ
یہ حدیث جعرانہ کے واقعے کو بیان کرتی ہے، جب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم حنین سے واپس آئے تھے اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں موجود چاندی لوگوں میں بانٹ رہے تھے۔ ایک شخص آیا اور اس نے کہا: اے محمد، عدل کرو۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر میں عدل نہ کروں تو کون عدل کرے گا، اور اگر میں عدل نہ کروں تو تم نقصان میں پڑ جاؤ گے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے مارنے کی اجازت چاہی، مگر نبی صلى الله عليه وسلم نے اجازت نہ دی اور فرمایا کہ لوگ کہیں گے کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہوں۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ اس شخص اور اس کے ساتھی قرآن پڑھیں گے، مگر قرآن ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گا، اور وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ اس حدیث میں عدل، احتیاط اور ظاہری تلاوت کے ساتھ دل کی حقیقت کا بڑا سخت بیان ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنے عدل کے بارے میں صاف جواب دیا۔
- سخت اعتراض کے باوجود فوراً قتل کی اجازت نہیں دی گئی۔
- قرآن پڑھنا کافی نہیں جب اس کا اثر دل تک نہ پہنچے۔
- حدیث میں ایک آنے والے گروہ کی علامت بیان ہوئی ہے۔
