صحیح مسلم حدیث ۲۴۵۰ - غنائم کی تقسیم کی دوسری سند
غنائم کی تقسیم کی حدیث: ایک ہی واقعے کی دوسری سند
صحیح مسلم : ۲۴۵۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۵۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْسِمُ مَغَانِمَ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۴۵۰ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی روایت کے مضمون کو دوسری سند سے نقل کرتی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم غنائم تقسیم فرما رہے تھے، پھر راوی نے وہی واقعہ بیان کیا جو پہلے گزرا۔ اس قسم کی روایت عام قاری کے لیے مختصر لگ سکتی ہے، مگر حدیث کے مطالعے میں یہ اہم ہوتی ہے، کیونکہ ایک واقعہ کئی سندوں سے آتا ہے۔ یہاں اصل موضوع غنائم کی تقسیم، نبی صلى الله عليه وسلم کا عدل، اور اس تقسیم کے وقت پیش آنے والا اعتراض ہے۔ متن میں نئی تفصیل زیادہ نہیں، اس لیے اس کی شرح بھی اسی حد میں رہنی چاہیے۔ اس حدیث کو لوگ غنیمت کی تقسیم، عدل کرو حدیث، اور جعرانہ کا واقعہ جیسے الفاظ سے تلاش کرتے ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حدیث کا مضمون صرف ایک جملے سے نہیں بلکہ مختلف نقلوں سے بھی مضبوط انداز میں سامنے آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت اسی واقعے کو دوسری سند سے نقل کرتی ہے۔
- اصل مضمون غنائم کی تقسیم اور اس پر اعتراض سے متعلق ہے۔
- مختصر روایت میں نئی تفصیل شامل نہیں کی گئی۔
- حدیث کو سمجھتے وقت اسی متن کے بیان پر رکنا چاہیے۔
