صحیح مسلم حدیث ۲۴۵۱ - دلوں کو مائل کرنے کے لیے عطا
مؤلفۃ القلوب کی حدیث: دلوں کو اسلام کی طرف مائل کرنے کے لیے عطا
صحیح مسلم : ۲۴۵۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۵۱
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : بَعَثَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ بِالْيَمَنِ ، بِذَهَبَةٍ فِي تُرْبَتِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ : الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيُّ ، وَعُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيُّ ، ثُمَّ أَحَدُ بَنِي كِلَابٍ ، وَزَيْدُ الْخَيْرِ الطَّائِيُّ ، ثُمَّ أَحَدُ بَنِي نَبْهَانَ ، قَالَ : فَغَضِبَتْ قُرَيْشٌ ، فَقَالُوا : أَتُعْطِي صَنَادِيدَ نَجْدٍ وَتَدَعُنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ لِأَتَأَلَّفَهُمْ " ، فَجَاءَ رَجُلٌ كَثُّ اللِّحْيَةِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ نَاتِئُ الْجَبِينِ مَحْلُوقُ الرَّأْسِ ، فَقَالَ : اتَّقِ اللَّهَ يَا مُحَمَّدُ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ إِنْ عَصَيْتُهُ أَيَأْمَنُنِي عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَلَا تَأْمَنُونِي " ، قَالَ : ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ فَاسْتَأْذَنَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فِي قَتْلِهِ ، يُرَوْنَ أَنَّهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا ، قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ ، يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ " .
ابوسعید روایت:
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے یمن سے کچھ سونا بھیجا مٹی میں ملا ہو (یعنی کان سے جیسا نکلا تھا ویسا ہی تھا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار آدمیوں میں بانٹا، اقرع بن حابس اور عیینہ بن بدر اور علقمہ بن علاثہ عامری اور ایک شخص بنی نبھان سے اور اس پر قریش بہت جلے اور کہنے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نجد کے سرداروں کو دیتے ہیں اور ہم کو نہیں دیتے اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ان کو اس لئے دیتا ہوں کہ ان کے دلوں میں اسلام کی محبت پیدا ہو۔“اتنے میں ایک شخص آیا کہ اس کی داڑھی گھنی تھی، گال پھولے ہوئے تھے آنکھیں گڑھے میں گھسی ہوئی تھیں ماتھا اونچا تھا سر منڈا ہوا تھا اور اس نے آ کر کہا: اللہ سے ڈر اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم)! اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں نافرمانی کروں گا تو پھر اللہ تعالیٰ کی کون اطاعت کرے گا (معلوم ہوا کہ نبی علیہ السلام سے بڑھ کر کسی کا درجہ نہیں) اور اللہ تعالیٰ نے مجھے زمین والوں پر امانتدار مقرر فرمایا اور تم لوگ امانتدار نہیں جانتے۔“پھر وہ آدمی پیٹھ موڑ کر چلا گیا اور ایک شخص نے اجازت مانگی قوم میں سے اس کے قتل کی لوگ خیال کرتے ہیں کہ وہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اس کی اصل میں سے ایک قوم ہے کہ وہ لوگ قرآن پڑھتے ہیں اور ان کے گلوں سے نیچے نہیں اترتا اور اہل اسلام کو قتل کرتے ہیں اور بت پرستوں کو چھوڑ دیتے ہیں، اسلام سے ایسا نکل جاتے ہیں جیسے تیر نکل جاتا ہے شکار سے اگر میں ان کو پاتا تو ایسا قتل کرتا جیسے عاد قتل ہوئے ہیں۔“ (یعنی جڑ پیر سے اڑا دیتا جیسے عاد کو باد نے برباد کیا)۔
صحیح مسلم حدیث ۲۴۵۱ کا خلاصہ
یہ مؤلفۃ القلوب کی حدیث ہے، یعنی ایسے لوگوں کو عطا دینا جن کے دل اسلام کی طرف مائل کیے جا رہے ہوں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے مٹی ملا ہوا سونا رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس بھیجا۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے اسے چار افراد میں تقسیم فرمایا۔ قریش کو اس پر ناگواری ہوئی کہ نجد کے سرداروں کو دیا جا رہا ہے اور ہمیں نہیں۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے صاف فرمایا کہ میں یہ اس لیے کر رہا ہوں کہ ان کے دلوں میں اسلام کی رغبت پیدا ہو۔ پھر ایک شخص آیا اور اس نے بے ادبی کے ساتھ تقویٰ کی بات کہی۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنے مقام امانت کو واضح کیا اور بتایا کہ ایسے شخص کی اصل سے ایک قوم نکلے گی جو قرآن پڑھیں گے مگر قرآن گلے سے نیچے نہیں اترے گا، مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔ اس روایت میں عطا کی حکمت، نبی صلى الله عليه وسلم کی امانت، اور آنے والے فتنہ کی خبر ایک ساتھ آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے کچھ لوگوں کو دل مائل کرنے کے لیے مال عطا فرمایا۔
- قریش کی ناگواری پر وجہ صاف بیان کر دی گئی۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اپنی امانت داری کو واضح فرمایا۔
- حدیث میں ایسے گروہ کی نشانی آئی جو قرآن پڑھ کر بھی راہ سے نکلے گا۔
