صحیح بخاری حدیث ۶۲۰۱ - جبرائیل علیہ السلام کا عائشہ رضی اللہ عنہا کو سلام
جبرائیل علیہ السلام کا عائشہ رضی اللہ عنہا کو سلام
صحیح بخاری : ۶۲۰۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۲۰۱
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَائِشَ ، هَذَا جِبْرِيلُ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ " ، قُلْتُ : وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، قَالَتْ : وَهُوَ يَرَى مَا لَا نَرَى .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یا عائش! یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں اور تمہیں سلام کہتے ہیں۔“ میں نے کہا اور ان پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت ہو۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ چیزیں دیکھتے تھے جو ہم نہیں دیکھتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۲۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائش! یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں، تمہیں سلام کہتے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: اور ان پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت ہو۔ پھر انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ چیزیں دیکھتے تھے جو ہم نہیں دیکھتے تھے۔ اس روایت کا اصل موضوع سلام اور جبرائیل علیہ السلام کا پیغام ہے۔ اس میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کی ایک جھلک بھی موجود ہے، مگر متن کو بڑھا کر غیر موجود تفصیلات شامل نہیں کرنی چاہئیں۔ سادہ سبق یہ ہے کہ سلام کا جواب ادب سے دیا جائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص مشاہدات کو ویسے ہی مانا جائے جیسے روایت میں آیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جبرائیل علیہ السلام نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو سلام کہا۔
- عائشہ رضی اللہ عنہا نے سلام کا جواب دعا کے ساتھ دیا۔
- روایت میں بتایا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ دیکھتے تھے جو دوسرے نہیں دیکھتے تھے۔
