صحیح بخاری حدیث ۳۲۱۷ - عائشہؓ کو جبرائیلؑ کا سلام
جبرائیلؑ کا سلام عائشہؓ کو: سلام کا ادب اور نبی صلى الله عليه وسلم کا مشاہدہ
صحیح بخاری : ۳۲۱۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۱۷
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهَا : " يَا عَائِشَةُ هَذَا جِبْرِيلُ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ ، فَقَالَتْ : وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ تَرَى مَا لَا أَرَى تُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا ”اے عائشہ! یہ جبرائیل علیہ السلام آئے ہیں، تم کو سلام کہہ رہے ہیں۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب میں کہا، کہ وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ وہ چیزیں دیکھتے ہیں جنہیں میں نہیں دیکھ سکتی، عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۳۲۱۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت اور سلام کے جواب کا خوبصورت ذکر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ، یہ جبرائیل ہیں، تمہیں سلام کہتے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ پھر انہوں نے کہا کہ آپ وہ چیزیں دیکھتے ہیں جو میں نہیں دیکھ سکتی، اور ان کی مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ جبرائیل علیہ السلام کا سلام عائشہ رضی اللہ عنہا تک پہنچایا گیا، اور انہوں نے ادب کے ساتھ جواب دیا۔ اس میں سلام کا جواب دینے، فرشتوں کے وجود اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص مشاہدے کا بیان ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جبرائیل علیہ السلام نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو سلام کہا۔
- سلام کا جواب ادب کے ساتھ دینا چاہیے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم وہ دیکھتے تھے جو عائشہ رضی اللہ عنہا نہیں دیکھ سکتی تھیں۔
- حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا ذکر ہے۔
