صحیح بخاری حدیث ۳۲۱۶ - اللہ کی راہ میں خرچ اور جنت کی پکار
اللہ کی راہ میں جوڑا خرچ کرنے کی فضیلت
صحیح بخاری : ۳۲۱۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۱۶
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ دَعَتْهُ خَزَنَةُ الْجَنَّةِ أَيْ فُلُ هَلُمَّ " ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : ذَاكَ الَّذِي لَا تَوَى عَلَيْهِ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ " .
ابوہریرہ روایت:
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ اللہ کے راستے میں جو شخص کسی چیز کا بھی جوڑا دے، تو جنت کے چوکیدار فرشتے اسے بلائیں گے کہ فلاں اس دروازے سے اندر آ جا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ یہ تو وہ شخص ہو گا جسے کوئی نقصان نہ ہو گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ تو بھی انہیں میں سے ہو گا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۲۱۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ کے راستے میں کسی چیز کا جوڑا دے، جنت کے چوکیدار فرشتے اسے بلائیں گے کہ فلاں، اس دروازے سے آ جاؤ۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یہ تو ایسا شخص ہو گا جسے کوئی نقصان نہ ہو گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ تم بھی انہی میں سے ہو گے۔ حدیث میں خرچ کرنے کی ترغیب ہے، مگر الفاظ میں خاص طور پر اللہ کے راستے میں جوڑا دینے کا ذکر آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خلوص کے ساتھ دیا گیا مال اللہ کے ہاں قدر رکھتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کی راہ میں خرچ کرنا فضیلت والا عمل ہے۔
- حدیث میں کسی چیز کا جوڑا دینے کا ذکر آیا ہے۔
- جنت کے چوکیدار فرشتوں کی پکار کا بیان ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں امید ظاہر فرمائی۔
