صحیح بخاری حدیث ۶۰۹۷ - عبداللہ بن مسعود کا نبوی انداز
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور نبوی طریقے کی پیروی
صحیح بخاری : ۶۰۹۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۹۷
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ ، أَحَدَّثَكُمُ الْأَعْمَشُ ، سَمِعْتُ شَقِيقًا ، قَالَ : سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ ، يَقُولُ : " إِنَّ أَشْبَهَ النَّاسِ دَلًّا وَسَمْتًا وَهَدْيًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَابْنُ أُمِّ عَبْدٍ ، مِنْ حِينِ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى أَنْ يَرْجِعَ إِلَيْهِ ، لَا نَدْرِي مَا يَصْنَعُ فِي أَهْلِهِ إِذَا خَلَا " .
حذیفہ روایت:
بلاشبہ سب لوگوں سے اپنی چال ڈھال اور وضع اور سیرت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔ جب وہ اپنے گھر سے باہر نکلتے اور اس کے بعد دوبارہ اپنے گھر واپس آنے تک ان کا یہی حال رہتا ہے لیکن جب وہ اکیلے گھر میں رہتے تو معلوم نہیں کیا کرتے رہتے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۶۰۹۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا کہ لوگوں میں چال ڈھال، وضع اور سیرت کے لحاظ سے وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ تھے، جب وہ اپنے گھر سے نکلتے اور واپس گھر آنے تک لوگوں کے سامنے ہوتے۔ پھر انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب وہ گھر میں اکیلے ہوتے تو ہمیں معلوم نہیں کہ کیا کرتے۔ اس حدیث کا موضوع اتباع، نبوی انداز اور ظاہر زندگی میں سنت کے اثرات ہیں۔ روایت کا دائرہ یہی ہے کہ صحابہ کرام ایک دوسرے کے کردار، چال چلن اور طرز زندگی کو دیکھتے تھے۔ اس میں یہ بھی احتیاط ہے کہ راوی نے گھر کے اندر کی بات کے بارے میں دعویٰ نہیں کیا، بلکہ جو دیکھا وہی بیان کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ کرام نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے طریقے کو عملی زندگی میں اپناتے تھے۔
- دیکھے ہوئے معاملے ہی کو بیان کرنا امانت داری ہے۔
- ظاہری چال چلن بھی دینی تربیت کا حصہ ہو سکتا ہے۔
- نبوی انداز سے محبت عمل میں ظاہر ہوتی ہے۔
