صحیح بخاری حدیث ۶۰۹۶ - جھوٹی بات پھیلانے کا انجام

جھوٹی خبر پھیلانے کی حدیث: زبان کی سخت ذمہ داری

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۹۶

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي قَالَا : الَّذِي رَأَيْتَهُ يُشَقُّ شِدْقُهُ فَكَذَّابٌ يَكْذِبُ بِالْكَذْبَةِ تُحْمَلُ عَنْهُ حَتَّى تَبْلُغَ الْآفَاقَ فَيُصْنَعُ بِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .

سمرہ بن جندب روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے پاس گذشتہ رات خواب میں دو آدمی آئے انہوں نے کہا کہ جسے آپ نے دیکھا کہ اس کا جبڑا چیرا جا رہا تھا وہ بڑا ہی جھوٹا تھا، جو ایک بات کو لیتا اور ساری دنیا میں پھیلا دیتا تھا، قیامت تک اس کو یہی سزا ملتی رہے گی۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۰۹۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اپنے خواب کا ایک حصہ بیان فرمایا کہ دو آدمیوں نے بتایا کہ جس شخص کا جبڑا چیرا جا رہا تھا، وہ بہت جھوٹا تھا۔ وہ ایک جھوٹی بات لیتا اور اسے پھیلاتا، یہاں تک کہ وہ دور دور تک پہنچ جاتی۔ اس کے لیے قیامت تک یہی سزا بتائی گئی۔ یہ حدیث جھوٹ پھیلانے، افواہ بنانے اور بات کو دنیا میں پھیلانے کے خطرے کو بہت سخت انداز میں بیان کرتی ہے۔ آج بھی جھوٹی خبر، غلط بات اور بے تحقیق پیغام ایک جگہ سے دوسری جگہ بہت تیزی سے پہنچتا ہے۔ اس حدیث کی حد کے اندر رہتے ہوئے اتنا کہنا کافی ہے کہ مسلمان کو کسی بات کو آگے بڑھانے سے پہلے اپنی زبان اور ذمہ داری کا خیال رکھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جھوٹی بات گھڑنا اور پھیلانا سخت گناہ ہے۔
  • بات کو آگے پھیلانے سے پہلے اس کی ذمہ داری سمجھنی چاہیے۔
  • زبان کے غلط استعمال کا انجام خطرناک ہو سکتا ہے۔
  • افواہ کو دور تک پہنچانا صرف معمولی غلطی نہیں سمجھنی چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں