صحیح بخاری حدیث ۶۰۹۵ - منافق کی تین نشانیاں

منافق کی تین نشانیاں: جھوٹ، وعدہ خلافی، خیانت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۹۵

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ نَافِعِ بْنِ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ : إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بولتا ہے جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے خلاف کرتا ہے اور جب اسے امین بنایا جاتا ہے تو خیانت کرتا ہے۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۰۹۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے منافق کی تین نشانیاں بیان فرمائیں: جب بولتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے تو خلاف کرتا ہے، اور جب اسے امین بنایا جاتا ہے تو خیانت کرتا ہے۔ یہ حدیث بہت عام فہم ہے اور روزمرہ زندگی سے براہ راست جڑی ہوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زبان، وعدہ اور امانت مسلمان کے کردار کے بنیادی حصے ہیں۔ جھوٹ بولنا صرف ایک غلط بات نہیں، بلکہ اعتماد کو توڑتا ہے۔ وعدہ خلافی تعلقات کو کمزور کرتی ہے۔ امانت میں خیانت معاشرے کے بھروسے کو نقصان پہنچاتی ہے۔ منافق کی علامات والی حدیث ہمیں اپنے معاملات کا جائزہ لینے کی دعوت دیتی ہے کہ ہماری گفتگو، وعدے اور ذمہ داریاں سچائی کے ساتھ ہیں یا نہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جھوٹ منافقانہ خصلتوں میں سے ایک ہے۔
  • وعدہ پورا کرنا مسلمان کے کردار کا حصہ ہے۔
  • امانت میں خیانت بھروسے کو توڑ دیتی ہے۔
  • اپنی زبان، وعدے اور ذمہ داری کا حساب رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں