صحیح بخاری حدیث ۳۰۷۹ - بیعت علی الاسلام
ہجرت کے بجائے اسلام پر بیعت: فتح مکہ کے بعد حکم
صحیح بخاری : ۳۰۷۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۰۷۹
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : جَاءَ مُجَاشِعٌ بِأَخِيهِ مُجَالِدِ بْنِ مَسْعُودٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " هَذَا مُجَالِدٌ يُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ ، فَقَالَ : لَا هِجْرَةَ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ وَلَكِنْ أُبَايِعُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ " .
مجاشع بن مسعود روایت:
مجاشع اپنے بھائی مجالد بن مسعود رضی اللہ عنہ کو لے کر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یہ مجالد ہیں۔ آپ سے ہجرت پر بیعت کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فتح مکہ کے بعد اب ہجرت باقی نہیں رہی۔ ہاں میں اسلام پر ان سے بیعت لے لوں گا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۰۷۹ کا خلاصہ
یہ روایت بھی مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ کے واقعے کو بیان کرتی ہے۔ وہ اپنے بھائی مجالد بن مسعود رضی اللہ عنہ کو نبی صلى الله عليه وسلم کے پاس لائے تاکہ ہجرت پر بیعت کریں۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں رہی، لیکن میں اسلام پر بیعت لے لوں گا۔ اس حدیث میں الفاظ مختصر ہیں مگر بات بہت واضح ہے۔ ہر دینی عمل کا اپنا پس منظر اور موقع ہوتا ہے۔ جب مکہ فتح ہو گیا تو وہ خاص ہجرت، جو پہلے مطلوب تھی، ختم ہو گئی۔ مگر اسلام کا عہد، اطاعت اور دین پر قائم رہنے کی بیعت باقی رہی۔ اس لیے یہ حدیث ہجرت کے حکم اور بیعت علی الاسلام دونوں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فتح مکہ کے بعد ہجرت کے حکم میں خاص تبدیلی آئی۔
- اسلام پر عہد اور بیعت کا دروازہ باقی رہا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے غلط نہیں ٹالا بلکہ درست صورت بتائی۔
- دین میں عمل کو اس کے صحیح موقع پر سمجھنا چاہیے۔
