صحیح بخاری حدیث ۳۰۸۰ - فتح مکہ کے بعد ہجرت
فتح مکہ کے بعد ہجرت ختم ہونے کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۰۸۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۰۸۰
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو : وَابْنُ جُرَيْجٍ سَمِعْتُ عَطَاءً ، يَقُولُ : ذَهَبْتُ مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، وَهِيَ مُجَاوِرَةٌ بِثَبِيرٍ ، فَقَالَتْ : " لَنَا انْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ مُنْذُ فَتَحَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ " .
عطاء روایت:
میں عبید بن عمیر کے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت آپ ثبیر پہاڑ کے قریب قیام فرما تھیں۔ آپ نے ہم سے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ پر فتح دی تھی ‘ اسی وقت سے ہجرت کا سلسلہ ختم ہو گیا تھا (ثبیر مشہور پہاڑ ہے)۔
صحیح بخاری حدیث ۳۰۸۰ کا خلاصہ
یہ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا کے بیان پر مشتمل ہے۔ عطا رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ عبید بن عمیر کے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت وہ ثبیر پہاڑ کے قریب قیام فرما تھیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلى الله عليه وسلم کو مکہ پر فتح دی، اسی وقت سے ہجرت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ اس حدیث میں خاص طور پر فتح مکہ کے بعد مکہ سے مدینہ کی ہجرت کے ختم ہونے کا ذکر ہے۔ اس سے پہلے والی روایات کے ساتھ مل کر یہ بات اور واضح ہو جاتی ہے کہ فتح مکہ ایک بڑا دینی مرحلہ تھا، جس کے بعد ہجرت کا وہ خاص حکم باقی نہ رہا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہجرت کے ختم ہونے کو فتح مکہ سے جوڑا۔
- فتح مکہ اسلامی تاریخ کا اہم مرحلہ تھا۔
- خاص ہجرت ختم ہوئی، دین پر قائم رہنا باقی رہا۔
- حدیث کو اسی خاص پس منظر تک محدود رکھنا چاہیے۔
