صحیح بخاری حدیث ۳۱۲۴ - غنیمت میں خیانت اور اللہ کی مدد
غنیمت میں خیانت کی حدیث: امانت، اطاعت اور اللہ کی مدد
صحیح بخاری : ۳۱۲۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۲۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ، فَقَالَ : لِقَوْمِهِ لَا يَتْبَعْنِي رَجُلٌ مَلَكَ بُضْعَ امْرَأَةٍ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا وَلَمَّا يَبْنِ بِهَا ، وَلَا أَحَدٌ بَنَى بُيُوتًا ، وَلَمْ يَرْفَعْ سُقُوفَهَا ، وَلَا أَحَدٌ اشْتَرَى غَنَمًا أَوْ خَلِفَاتٍ وَهُوَ يَنْتَظِرُ وِلَادَهَا فَغَزَا فَدَنَا مِنَ الْقَرْيَةِ صَلَاةَ الْعَصْرِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : لِلشَّمْسِ إِنَّكِ مَأْمُورَةٌ وَأَنَا مَأْمُورٌ ، اللَّهُمَّ احْبِسْهَا عَلَيْنَا فَحُبِسَتْ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَجَمَعَ الْغَنَائِمَ ، فَجَاءَتْ يَعْنِي النَّارَ لِتَأْكُلَهَا فَلَمْ تَطْعَمْهَا ، فَقَالَ : إِنَّ فِيكُمْ غُلُولًا فَلْيُبَايِعْنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ فَلَزِقَتْ يَدُ رَجُلٍ بِيَدِهِ ، فَقَالَ : فِيكُمُ الْغُلُولُ فَلْيُبَايِعْنِي قَبِيلَتُكَ فَلَزِقَتْ يَدُ رَجُلَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ بِيَدِهِ ، فَقَالَ : فِيكُمُ الْغُلُولُ فَجَاءُوا بِرَأْسٍ مِثْلِ رَأْسِ بَقَرَةٍ مِنَ الذَّهَبِ فَوَضَعُوهَا فَجَاءَتِ النَّارُ فَأَكَلَتْهَا ، ثُمَّ أَحَلَّ اللَّهُ لَنَا الْغَنَائِمَ رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَأَحَلَّهَا لَنَا " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بنی اسرائیل کے پیغمبروں میں سے ایک نبی (یوشع علیہ السلام) نے غزوہ کرنے کا ارادہ کیا تو اپنی قوم سے کہا کہ میرے ساتھ کوئی ایسا شخص جس نے ابھی نئی شادی کی ہو اور بیوی کے ساتھ رات بھی نہ گزاری ہو اور وہ رات گزارنا چاہتا ہو اور وہ شخص جس نے گھر بنایا ہو اور ابھی اس کی چھت نہ رکھی ہو اور وہ شخص جس نے حاملہ بکری یا حاملہ اونٹنیاں خریدی ہوں اور اسے ان کے بچے جننے کا انتظار ہو تو (ایسے لوگوں میں سے کوئی بھی) ہمارے ساتھ جہاد میں نہ چلے۔پھر انہوں نے جہاد کیا ‘ اور جب اس آبادی (اریحا) سے قریب ہوئے تو عصر کا وقت ہو گیا یا اس کے قریب وقت ہوا۔ انہوں نے سورج سے فرمایا کہ تو بھی اللہ کا تابع فرمان ہے اور میں بھی اس کا تابع فرمان ہوں۔ اے اللہ! ہمارے لیے اسے اپنی جگہ پر روک دے۔ چنانچہ سورج رک گیا ‘ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح عنایت فرمائی۔پھر انہوں نے اموال غنیمت کو جمع کیا اور آگ اسے جلانے کے لیے آئی لیکن جلا نہ سکی ‘ اس نبی نے فرمایا کہ تم میں سے کسی نے مال غنیمت میں چوری کی ہے۔ اس لیے ہر قبیلہ کا ایک آدمی آ کر میرے ہاتھ پر بیعت کرے (جب بیعت کرنے لگے تو) ایک قبیلہ کے شخص کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چمٹ گیا۔ انہوں نے فرمایا ‘ کہ چوری تمہارے قبیلہ ہی والوں نے کی ہے۔ اب تمہارے قبیلے کے سب لوگ آئیں اور بیعت کریں۔ چنانچہ اس قبیلے کے دو تین آدمیوں کا ہاتھ اس طرح ان کے ہاتھ سے چمٹ گیا ‘ تو آپ نے فرمایا کہ چوری تمہیں لوگوں نے کی ہے۔آخر چوری مان لی گئی) اور وہ لوگ گائے کے سر کی طرح سونے کا ایک سر لائے (جو غنیمت میں سے چرا لیا گیا تھا) اور اسے مال غنیمت میں رکھ دیا ‘ تب آگ آئی اور اسے جلا گئی ‘ پھر غنیمت اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے جائز قرار دے دی ‘ ہماری کمزوری اور عاجزی کو دیکھا۔ اس لیے ہمارے واسطے حلال قرار دے دی۔
صحیح بخاری حدیث ۳۱۲۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک سابقہ نبی کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ انہوں نے غزوہ سے پہلے ایسے لوگوں کو ساتھ نہ چلنے کا کہا جن کے دل گھر، نئی شادی، ادھورے مکان یا جانوروں کے بچے پیدا ہونے کے انتظار میں لگے ہوئے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑے دینی کام کے وقت دل کا یکسو ہونا اہم ہے۔ پھر اللہ کے حکم سے سورج رکنے کا واقعہ آیا، یہاں تک کہ اللہ نے فتح دی۔ اس کے بعد غنیمت جمع کی گئی، مگر آگ نے اسے نہ جلایا، تو معلوم ہوا کہ غنیمت میں خیانت ہوئی ہے۔ جب چوری کا مال واپس رکھا گیا تو آگ نے اسے جلا دیا۔ آخر میں بتایا گیا کہ اللہ نے اس امت کے لیے غنیمت حلال کر دی، کیونکہ اس نے ہماری کمزوری اور عاجزی دیکھی۔ یہ حدیث غنیمت کی امانت، خیانت سے بچنے اور اللہ کے حکم کے سامنے جھکنے کا سبق دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی ذمہ داری میں دل کا بٹ جانا کمزوری کا سبب بن سکتا ہے۔
- غنیمت میں خیانت کو حدیث نے ایک سنگین معاملہ کے طور پر بیان کیا ہے۔
- اللہ کی مدد اسی وقت آتی ہے جب بندے اطاعت اور امانت کا خیال رکھیں۔
