صحیح بخاری حدیث ۳۱۲۳ - جہاد فی سبیل اللہ میں نیت کی اہمیت

جہاد فی سبیل اللہ حدیث: نیت، یقین اور اللہ کا وعدہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۲۳

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَكَفَّلَ اللَّهُ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ وَتَصْدِيقُ كَلِمَاتِهِ بِأَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے ‘ جہاد ہی کی نیت سے نکلے ‘ اللہ کے کلام (اس کے وعدے) کو سچ جان کر ‘ تو اللہ اس کا ضامن ہے۔ یا تو اللہ تعالیٰ اس کو شہید کر کے جنت میں لے جائے گا ‘ یا اس کو ثواب اور غنیمت کا مال دلا کر اس کے گھر لوٹا لائے گا۔“

صحیح بخاری حدیث ۳۱۲۳ کا خلاصہ

اس حدیث کا بنیادی موضوع جہاد فی سبیل اللہ اور خالص نیت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ جو شخص اللہ کے راستے میں نکلے، اور اسے گھر سے نکالنے والی چیز صرف اللہ کی راہ میں جہاد اور اللہ کے کلام کی تصدیق ہو، تو اللہ اس کا ضامن ہے۔ اس میں اصل بات یہ ہے کہ عمل کی قیمت نیت سے جڑی ہے۔ یہاں غنیمت یا شہرت کو مقصد نہیں بنایا گیا، بلکہ اللہ کے وعدے پر یقین کو بنیاد بتایا گیا ہے۔ حدیث کے مطابق ایسے شخص کے لیے دو صورتیں بیان ہوئیں: یا اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا، یا اسے اجر اور غنیمت کے ساتھ گھر لوٹا دے گا۔ اس لیے جہاد کی نیت، اجر و ثواب، اور اللہ پر یقین اس حدیث کے مرکزی الفاظ ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کی راہ میں نکلنے والے کے لیے نیت کا خالص ہونا بہت اہم ہے۔
  • حدیث میں اللہ کے کلام اور وعدے پر یقین کو جہاد کے مقصد کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔
  • اجر اور غنیمت دونوں کا ذکر آیا ہے، مگر اصل مقصد اللہ کی رضا اور اس کے راستے میں نکلنا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں