صحیح بخاری حدیث ۷۴۶۳ - خالص نیت والا جہاد

خالص نیت والا جہاد: اللہ کے کلمے کی تصدیق

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۶۳

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَكَفَّلَ اللَّهُ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ مِنْ بَيْتِهِ إِلَّا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ ، وَتَصْدِيقُ كَلِمَتِهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرُدَّهُ إِلَى مَسْكَنِهِ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا اور اپنے گھر سے صرف اس غرض سے نکلا کہ خالص اللہ کے راستے میں جہاد کرے اور اس کے کلمہ توحید کی تصدیق کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی ضمانت لے لیتا ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے گا یا پھر ثواب اور غنیمت کے ساتھ اس کے گھر واپس کرے گا۔“

صحیح بخاری حدیث ۷۴۶۳ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع جہاد کی نیت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ کے راستے میں جہاد کرے، اور اپنے گھر سے صرف اس نیت سے نکلے کہ وہ اللہ کے راستے میں جہاد کرے اور اس کے کلمے کی تصدیق کرے، تو اللہ تعالیٰ اس کی ضمانت لیتا ہے۔ حدیث میں بیان ہوا کہ اسے جنت میں داخل کرے گا یا پھر اجر اور غنیمت کے ساتھ اس کے گھر واپس کرے گا۔ اس میں اصل بات خالص مقصد ہے۔ گھر سے نکلنا، محنت کرنا، اور خطرہ اٹھانا تب دینی معنی رکھتا ہے جب نیت اللہ کے لیے ہو۔ اس لیے جہاد فی سبیل اللہ کی حدیث میں نیت، تصدیق کلمہ، اجر اور اللہ کے وعدے کا ذکر ساتھ آتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جہاد کے لیے گھر سے نکلنے کی نیت اللہ کے لیے ہونی چاہیے۔
  • اللہ کے کلمے کی تصدیق کا ذکر حدیث میں ہے۔
  • حدیث میں جنت یا اجر کے ساتھ واپسی کا بیان ہے۔
  • بڑے دینی عمل کی بنیاد نیت پر ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں