صحیح بخاری حدیث ۷۴۶۲ - روح کا علم

روح کے بارے میں حدیث: انسان کا علم بہت تھوڑا ہے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۶۲

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " بَيْنَا أَنَا أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ حَرْثِ الْمَدِينَةِ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى عَسِيبٍ مَعَهُ ، فَمَرَرْنَا عَلَى نَفَرٍ مِنْ الْيَهُودِ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا تَسْأَلُوهُ أَنْ يَجِيءَ فِيهِ بِشَيْءٍ تَكْرَهُونَهُ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَنَسْأَلَنَّهُ ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْهُمْ ، فَقَالَ : يَا أَبَا الْقَاسِمِ مَا الرُّوحُ ؟ ، فَسَكَتَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ ، فَقَالَ : وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلا قَلِيلا سورة الإسراء آية 85 ، قَالَ الْأَعْمَشُ هَكَذَا فِي قِرَاءَتِنَا .

عبداللہ بن مسعود روایت:

میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے ایک کھیت میں چل رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ کی چھڑی کا سہارا لیتے جاتے تھے، پھر ہم یہودیوں کی ایک جماعت کے پاس سے گزرے تو ان لوگوں نے آپس میں کہا کہ ان سے روح کے بارے میں پوچھو۔ کچھ یہودیوں نے مشورہ دیا کہ نہ پوچھو، کہیں کوئی ایسی بات نہ کہیں جس کا (ان کی زبان سے سننا) تم پسند نہ کرو۔ لیکن بعض نے اصرار کیا کہ نہیں! ہم پوچھیں گے۔ چنانچہ ان میں سے ایک نے اٹھ کر کہا: اے ابوالقاسم! روح کیا چیز ہے؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خاموش ہو گئے۔ میں نے سمجھ لیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «ويسألونك عن الروح قل الروح من أمر ربي وما أوتوا من العلم إلا قليلا» ”اور لوگ آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجئیے کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے اور تمہیں اس کا علم بہت تھوڑا دیا گیا ہے۔“ اعمش نے کہا کہ ہماری قرآت میں اسی طرح ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۷۴۶۲ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع روح کا علم ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے کھیت میں چل رہے تھے۔ یہودیوں کی ایک جماعت نے آپس میں مشورہ کیا کہ روح کے بارے میں سوال کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ پھر ایک شخص نے پوچھا: اے ابوالقاسم! روح کیا چیز ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، اور راوی نے سمجھا کہ وحی نازل ہو رہی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت پڑھی کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے اور تمہیں علم بہت تھوڑا دیا گیا ہے۔ اس حدیث کا پیغام ہے کہ ہر غیبی حقیقت انسان کے علم میں نہیں آتی، اور جہاں وحی جواب دے دے، وہاں بندہ اپنی حد پہچانتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • روح کے بارے میں قطعی علم اللہ کے حکم سے متعلق ہے۔
  • انسان کو تھوڑا علم دیا گیا ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے وحی آنے تک جواب نہیں دیا۔
  • غیب کے معاملے میں اپنی علمی حد ماننا ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں