صحیح بخاری حدیث ۴۷۲۱ - روح کا علم اللہ کے پاس
روح کیا ہے؟ قرآن کا جواب اور انسان کے علم کی حد
صحیح بخاری : ۴۷۲۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۲۱
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " بَيْنَا أَنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرْثٍ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى عَسِيبٍ ، إِذْ مَرَّ الْيَهُودُ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ ؟ فَقَالَ : مَا رَأْيُكُمْ إِلَيْهِ ؟ وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا يَسْتَقْبِلُكُمْ بِشَيْءٍ تَكْرَهُونَهُ ، فَقَالُوا سَلُوهُ ؟ فَسَأَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ ، فَأَمْسَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ شَيْئًا ، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ ، فَقُمْتُ مَقَامِي ، فَلَمَّا نَزَلَ الْوَحْيُ ، قَالَ : وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلا قَلِيلا سورة الإسراء آية 85 " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک کھیت میں حاضر تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کھجور کے ایک تنے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے کہ کچھ یہودی اس طرف سے گزرے۔ کسی یہودی نے اپنے دوسرے ساتھی سے کہا کہ ان سے روح کے بارے میں پوچھو۔ ان میں سے کسی نے اس پر کہا ایسا کیوں کرتے ہو؟ دوسرا یہودی بولا۔ کہیں وہ کوئی ایسی بات نہ کہہ دیں، جو تم کو ناپسند ہو۔ رائے اس پر ٹھہری کہ روح کے بارے میں پوچھنا ہی چاہئے۔ چنانچہ انہوں نے آپ سے اس کے بارے میں سوال کیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو گئے اور ان کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ میں سمجھ گیا کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتر رہی ہے۔ اس لیے میں وہیں کھڑا رہا۔ جب وحی ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «ويسألونك عن الروح قل الروح من أمر ربي وما أوتيتم من العلم إلا قليلا» کہ ”اور یہ آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیں کہ روح میرے پروردگار کے حکم ہی سے ہے اور تمہیں علم تو تھوڑا ہی دیا گیا ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۴۷۲۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ یہودیوں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے روح کے بارے میں سوال کیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم کچھ دیر خاموش رہے، یہاں تک کہ وحی نازل ہوئی۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے آیت پڑھی: وہ آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیں روح میرے رب کے حکم سے ہے، اور تمہیں علم بہت تھوڑا دیا گیا ہے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع روح اور علم کی حد ہے۔ اس میں ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہر سوال کا جواب انسانی عقل سے نہیں دیا جاتا۔ بعض باتیں اللہ کے علم سے تعلق رکھتی ہیں۔ بندے کو علم ملتا ہے، مگر وہ محدود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روح کا اصل علم اللہ تعالیٰ کے حکم سے متعلق ہے۔
- انسان کو علم دیا گیا ہے، مگر وہ بہت محدود ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے وحی آنے تک اپنی طرف سے جواب نہیں دیا۔
