صحیح بخاری حدیث ۴۷۲۰ - حق آیا باطل مٹ گیا
حق آیا اور باطل مٹ گیا: فتح مکہ کا عظیم منظر
صحیح بخاری : ۴۷۲۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۲۰
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَحَوْلَ الْبَيْتِ سِتُّونَ وَثَلَاثُ مِائَةِ نُصُبٍ ، فَجَعَلَ يَطْعُنُهَا بِعُودٍ فِي يَدِهِ ، وَيَقُولُ : " جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں (فتح کے بعد) داخل ہوئے تو کعبہ کے چاروں طرف تین سو ساٹھ بت تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ کی لکڑی سے ایک کو ٹکراتے جاتے اور پڑھتے جاتے «جاء الحق وزهق الباطل إن الباطل كان زهوقا»، «جاء الحق وما يبدئ الباطل وما يعيد» حق آیا اور جھوٹ نابود ہوا بیشک جھوٹ نابود ہونے والا ہی تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۷۲۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم جب مکہ میں داخل ہوئے تو کعبہ کے گرد تین سو ساٹھ بت تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم اپنے ہاتھ کی لکڑی سے بتوں کو ٹکراتے جاتے اور آیات پڑھتے جاتے: حق آیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے والا ہے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع توحید اور حق کی کامیابی ہے۔ یہاں کعبہ کو بتوں سے پاک کرنے کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ یہ روایت بتاتی ہے کہ اسلام کا پیغام اللہ کی عبادت اور باطل معبودوں کے انکار پر قائم ہے۔ اس میں فتح مکہ، کعبہ، بت، حق اور باطل جیسے اہم الفاظ آتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کعبہ کو بتوں سے پاک کیا گیا اور توحید کا اعلان ہوا۔
- حق کے سامنے باطل باقی نہیں رہتا، جیسا کہ آیت میں بیان ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر آیات تلاوت فرمائیں۔
