صحیح بخاری حدیث ۳۶ - اللہ کی راہ میں نکلنے کا اجر
اللہ کی راہ میں نکلنے کی حدیث: ایمان، اجر اور جنت
صحیح بخاری : ۳۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۶
حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَارَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " انْتَدَبَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا إِيمَانٌ بِي وَتَصْدِيقٌ بِرُسُلِي ، أَنْ أُرْجِعَهُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ أَوْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، وَلَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي مَا قَعَدْتُ خَلْفَ سَرِيَّةٍ ، وَلَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، ثُمَّ أُحْيَا ، ثُمَّ أُقْتَلُ ، ثُمَّ أُحْيَا ، ثُمَّ أُقْتَلُ " .
ابوہریرہ روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ کی راہ میں (جہاد کے لیے) نکلا، اللہ اس کا ضامن ہو گیا۔ (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) اس کو میری ذات پر یقین اور میرے پیغمبروں کی تصدیق نے (اس سرفروشی کے لیے گھر سے) نکالا ہے۔ (میں اس بات کا ضامن ہوں) کہ یا تو اس کو واپس کر دوں ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ، یا (شہید ہونے کے بعد) جنت میں داخل کر دوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اور اگر میں اپنی امت پر (اس کام کو) دشوار نہ سمجھتا تو لشکر کا ساتھ نہ چھوڑتا اور میری خواہش ہے کہ اللہ کی راہ میں مارا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر مارا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر مارا جاؤں۔
صحیح بخاری حدیث ۳۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں اللہ کی راہ میں نکلنے والے شخص کا ذکر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اللہ کی راہ میں نکلے، اور اسے صرف اللہ پر ایمان اور اس کے رسولوں کی تصدیق نکالے، اللہ اس کا ضامن ہے۔ یا تو اسے اجر اور غنیمت کے ساتھ واپس کرے گا، یا اسے جنت میں داخل کرے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت پر مشقت کے خیال کا ذکر فرمایا اور اللہ کی راہ میں شہادت کی خواہش بیان کی۔ اس حدیث میں جہاد فی سبیل اللہ، ایمان، تصدیق رسول، اجر، غنیمت، جنت اور شہادت جیسے موضوعات آتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کی راہ میں نکلنے کی بنیاد ایمان اور رسولوں کی تصدیق ہونی چاہیے۔
- حدیث میں اجر، غنیمت یا جنت کا معاملہ اللہ کے وعدے سے جڑا ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت پر مشقت کو بھی دیکھتے تھے۔
- اللہ کی راہ میں قربانی کا مقام اس حدیث میں بہت نمایاں ہے۔
