صحیح بخاری حدیث ۳۵ - شب قدر ایمان اور احتساب کے ساتھ
شب قدر کی عبادت: ایمان اور احتساب کی شرط
صحیح بخاری : ۳۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَقُمْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو شخص شب قدر ایمان کے ساتھ محض ثواب آخرت کے لیے ذکر و عبادت میں گزارے، اس کے گزشتہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۳۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں شب قدر کی عبادت کا بڑا اجر بیان ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور ثواب آخرت کی نیت سے قیام کرے، اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ حدیث کے الفاظ میں ایمان اور احتساب خاص طور پر اہم ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عبادت صرف رسم کے طور پر نہ ہو، بلکہ دل میں اللہ پر ایمان اور اجر کی امید ہو۔ اس حدیث میں شب قدر کی حدیث، قیام لیلۃ القدر، ایمان و احتساب، پچھلے گناہوں کی بخشش اور رمضان کی راتوں کی عبادت جیسے الفاظ بہت زیادہ تلاش کیے جاتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شب قدر میں قیام ایمان کے ساتھ ہونا چاہیے۔
- عبادت میں ثواب آخرت کی نیت یعنی احتساب کا ذکر آیا ہے۔
- حدیث میں ایسے قیام پر پچھلے گناہوں کی بخشش بیان ہوئی ہے۔
- رات کی عبادت کو دل کی نیت کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے۔
