صحیح بخاری حدیث ۳۷ - رمضان کی راتوں کا قیام

قیام رمضان کی حدیث: ایمان اور ثواب کی امید

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کوئی رمضان میں (راتوں کو) ایمان رکھ کر اور ثواب کے لیے عبادت کرے اس کے اگلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔

صحیح بخاری حدیث ۳۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں رمضان کی راتوں کی عبادت کا ذکر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص رمضان میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی امید رکھتے ہوئے قیام کرے، اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ اس حدیث میں قیام رمضان، تراویح، ایمان و احتساب، رمضان کی عبادت اور گناہوں کی بخشش جیسے الفاظ خاص طور پر اہم ہیں۔ حدیث کا پیغام صاف ہے کہ رمضان کی راتیں صرف جاگنے کے لیے نہیں، بلکہ نیت کے ساتھ عبادت کرنے کے لیے ہیں۔ عبادت کا ظاہری عمل اپنی جگہ ہے، مگر دل کا ایمان اور اللہ سے اجر کی امید بھی ساتھ ہونی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رمضان کی راتوں کا قیام ایمان کے ساتھ ہونا چاہیے۔
  • عبادت میں اللہ سے ثواب کی امید کا ذکر خاص طور پر آیا ہے۔
  • حدیث میں ایسے قیام پر پچھلے گناہوں کی بخشش بیان ہوئی ہے۔
  • رمضان کی راتوں کو نیت کے ساتھ عبادت میں لگانا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں