صحیح بخاری حدیث ۳۱۲۸ - ہدیہ واپس کرنا اور ضرورت کا لحاظ

ہدیہ اور ضرورت کی حدیث: کھجور کے درخت واپس فرمانا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۲۸

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ كَانَ الرَّجُلُ يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " النَّخَلَاتِ حَتَّى افْتَتَحَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرَ ، فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ " .

انس بن مالک روایت:

صحابہ (انصار) کچھ کھجور کے درخت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بطور تحفہ دے دیا کرتے تھے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے بنو قریظہ اور بنو نضیر کے قبائل پر فتح دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد اس طرح کے ہدایا واپس فرما دیا کرتے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۳۱۲۸ کا خلاصہ

اس حدیث کا موضوع ہدیہ، ضرورت اور احسان کا اچھا جواب ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ، خاص طور پر انصار، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجور کے کچھ درخت بطور تحفہ دے دیا کرتے تھے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے بنو قریظہ اور بنو نضیر پر فتح دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد اس طرح کے ہدایا واپس فرما دیا کرتے تھے۔ متن سے یہی بات سامنے آتی ہے کہ پہلے ایک ضرورت یا موقع کے تحت لوگ پیش کرتے تھے، پھر جب اللہ نے کشادگی دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دیے ہوئے درخت واپس کر دیے۔ یہ حدیث ہدیہ واپس کرنے کے عام مسئلے کی تفصیل نہیں دیتی، بلکہ خاص واقعہ بتاتی ہے۔ اس میں احسان شناسی، ضرورت کا لحاظ، اور لوگوں کے مال کا خیال رکھنے کا خوبصورت سبق ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صحابہ رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے مال سے ہدیہ پیش کرتے تھے۔
  • کشادگی آنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہدیے واپس فرما دیے۔
  • متن میں لوگوں کے مال اور ان کے احسان کا لحاظ صاف نظر آتا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں