صحیح بخاری حدیث ۳۱۳۸ - انصاف کی تقسیم اور غلط اعتراض
انصاف کی حدیث: غنیمت کی تقسیم پر اعتراض کا جواب
صحیح بخاری : ۳۱۳۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۳۸
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ غَنِيمَةً بِالْجِعْرَانَةِ ، إِذْ قَالَ لَهُ : " رَجُلٌ اعْدِلْ ، فَقَالَ لَهُ : شَقِيتُ إِنْ لَمْ أَعْدِلْ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقام جعرانہ میں غنیمت تقسیم کر رہے تھے کہ ایک شخص ذوالخویصرہ نے آپ سے کہا، انصاف سے کام لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر میں بھی انصاف سے کام نہ لوں تو بدبخت ہوا۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۱۳۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں مقام جعرانہ کا واقعہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غنیمت تقسیم فرما رہے تھے کہ ایک شخص ذوالخویصرہ نے کہا: انصاف کیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اگر میں بھی انصاف نہ کروں تو میں بدبخت ہوا۔ اس مختصر حدیث میں بہت بڑا سبق ہے۔ غنیمت کی تقسیم ایک نازک معاملہ تھا، کیونکہ اس میں لوگوں کے حصے اور دل دونوں شامل ہوتے ہیں۔ ایسے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر انصاف نہ کرنے کا الزام لگانا بہت سخت بات تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب صاف تھا کہ آپ کی تقسیم انصاف پر ہے۔ اس حدیث کو انصاف، غنیمت کی تقسیم، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے، اور بے جا اعتراض سے بچنے کے موضوع پر سمجھا جا سکتا ہے۔ متن میں مزید تفصیلات نہیں، اس لیے بات کو اسی جواب تک محدود رکھنا درست ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم پر بے جا اعتراض کیا گیا۔
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاف کے بارے میں صاف اور مضبوط جواب دیا۔
- مال کی تقسیم کے وقت زبان اور رویے کا خیال رکھنا چاہیے۔
