صحیح بخاری حدیث ۳۱۳۹ - احسان کا بدلہ اور بدر کے قیدی
بدر کے قیدیوں کی حدیث: احسان یاد رکھنا
صحیح بخاری : ۳۱۳۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۳۹
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِي أُسَارَى بَدْرٍ : " لَوْ كَانَ الْمُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ حَيًّا ، ثُمَّ كَلَّمَنِي فِي هَؤُلَاءِ النَّتْنَى لَتَرَكْتُهُمْ لَهُ " .
´ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں محمد بن جبیر نے اور انہیں ان کے والد رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں فرمایا تھا کہ اگر مطعم بن عدی (جو کفر کی حالت میں مر گئے تھے) زندہ ہوتے اور ان نجس، ناپاک لوگوں کی سفارش کرتے تو میں ان کی سفارش سے انہیں (فدیہ لیے بغیر) چھوڑ دیتا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۱۳۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں مطعم بن عدی کا ذکر فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتے اور ان قیدیوں کے بارے میں سفارش کرتے تو میں ان کی سفارش پر انہیں چھوڑ دیتا۔ متن میں مطعم بن عدی کے بارے میں یہی بات آئی ہے کہ ان کی سفارش کو اتنا وزن دیا جاتا۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ احسان اور اچھے برتاؤ کو یاد رکھنا ایک قابل قدر بات ہے۔ یہاں قیدیوں، سفارش اور احسان کے بدلے کا خاص واقعہ بیان ہوا ہے۔ حدیث میں یہ نہیں کہا گیا کہ ہر سفارش ہر حال میں قبول ہو گی، بلکہ بدر کے قیدیوں کے مخصوص معاملے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مطعم بن عدی کا نام لیا۔ اس لیے اس روایت کو احسان شناسی، سفارش اور بدر کے قیدیوں کے موضوع سے جوڑنا مناسب ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مطعم بن عدی کے احسان کو یاد فرمایا۔
- بدر کے قیدیوں کے خاص معاملے میں سفارش کا ذکر آیا ہے۔
- اچھے سلوک کو بھلا نہ دینا اس روایت کا اہم سبق ہے۔
