صحیح بخاری حدیث ۳۱۴۰ - بنو ہاشم اور بنو مطلب کا حکم
بنو ہاشم اور بنو مطلب کی حدیث: تقسیم میں نسبت کا اعتبار
صحیح بخاری : ۳۱۴۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۴۰
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ : مَشَيْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعْطَيْتَ بَنِي الْمُطَّلِبِ وَتَرَكْتَنَا وَنَحْنُ وَهُمْ مِنْكَ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا بَنُو الْمُطَّلِبِ وَبَنُو هَاشِمٍ شَيْءٌ وَاحِدٌ ، قَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي يُونُسُ وَزَادَ ، قَالَ جُبَيْرٌ : وَلَمْ يَقْسِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَلَا لِبَنِي نَوْفَلٍ ، وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : عَبْدُ شَمْسٍ وَهَاشِمٌ وَالْمُطَّلِبُ إِخْوَةٌ لِأُمٍّ وَأُمُّهُمْ عَاتِكَةُ بِنْتُ مُرَّةَ وَكَانَ نَوْفَلٌ أَخَاهُمْ لِأَبِيهِمْ " .
جبیر بن مطعم روایت:
میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا، یا رسول اللہ! آپ نے بنو مطلب کو تو عنایت فرمایا لیکن ہم کو چھوڑ دیا، حالانکہ ہم کو آپ سے وہی رشتہ ہے جو بنو مطلب کو آپ سے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنو مطلب اور بنو ہاشم ایک ہی ہے۔لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا اور (اس روایت میں) یہ زیادتی کی کہ جبیر رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدشمس اور بنو نوفل کو نہیں دیا تھا، اور ابن اسحاق (صاحب مغازی) نے کہا ہے کہ عبدشمس، ہاشم اور مطلب ایک ماں سے تھے اور ان کی ماں کا نام عاتکہ بن مرہ تھا اور نوفل باپ کی طرف سے ان کے بھائی تھے (ان کی ماں دوسری تھیں)۔
صحیح بخاری حدیث ۳۱۴۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا سوال بیان ہوا ہے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ نے بنو مطلب کو دیا اور ہمیں چھوڑ دیا، حالانکہ ہمارا آپ سے رشتہ بھی ان جیسا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنو مطلب اور بنو ہاشم ایک ہی ہیں۔ روایت میں یہ بھی آیا کہ بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو نہیں دیا گیا تھا۔ متن کا اصل مقصد یہی ہے کہ اس خاص تقسیم میں بنو ہاشم اور بنو مطلب کو ایک سمجھا گیا۔ اس حدیث کو خمس، غنیمت کی تقسیم، خاندان رسول، بنو ہاشم اور بنو مطلب کے موضوع سے جوڑا جا سکتا ہے۔ یہاں نسب کی تفصیل بھی راوی کے کلام میں آئی ہے، مگر اصل فیصلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جملہ ہے کہ دونوں ایک ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے میں بنو ہاشم اور بنو مطلب کو ایک قرار دیا۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم نے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا۔
- تقسیم کے بعض فیصلے خاص نسبت اور سبب کے تحت ہوتے ہیں۔
