صحیح بخاری حدیث ۳۱۴۱ - بدر میں ابو جہل کا قتل
ابو جہل کے قتل کی حدیث: بدر کے دو نوجوانوں کا عزم
صحیح بخاری : ۳۱۴۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۴۱
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : بَيْنَا أَنَا وَاقِفٌ فِي الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ فَنَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي ، فَإِذَا أَنَا بِغُلَامَيْنِ مِنْ الْأَنْصَارِ حَدِيثَةٍ أَسْنَانُهُمَا تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ بَيْنَ أَضْلَعَ مِنْهُمَا فَغَمَزَنِي أَحَدُهُمَا ، فَقَالَ : يَا عَمِّ هَلْ تَعْرِفُ أَبَا جَهْلٍ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ مَا حَاجَتُكَ إِلَيْهِ يَا ابْنَ أَخِي ، قَالَ : أُخْبِرْتُ أَنَّهُ يَسُبُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَئِنْ رَأَيْتُهُ لَا يُفَارِقُ سَوَادِي سَوَادَهُ حَتَّى يَمُوتَ الْأَعْجَلُ مِنَّا فَتَعَجَّبْتُ لِذَلِكَ فَغَمَزَنِي الْآخَرُ ، فَقَالَ لِي : مِثْلَهَا فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ نَظَرْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَجُولُ فِي النَّاسِ ، قُلْتُ : أَلَا إِنَّ هَذَا صَاحِبُكُمَا الَّذِي سَأَلْتُمَانِي فَابْتَدَرَاهُ بِسَيْفَيْهِمَا فَضَرَبَاهُ حَتَّى قَتَلَاهُ ، ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَاهُ ، فَقَالَ : " أَيُّكُمَا قَتَلَهُ ، قَالَ : كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنَا قَتَلْتُهُ ، فَقَالَ : هَلْ مَسَحْتُمَا سَيْفَيْكُمَا ، قَالَا : لَا فَنَظَرَ فِي السَّيْفَيْنِ ، فَقَالَ : كِلَاكُمَا قَتَلَهُ سَلَبُهُ مُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ وَكَانَا مُعَاذَ بْنَ عَفْرَاءَ ومُعَاذَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الجَمُوحِ " .
عبدالرحمٰن بن عوف روایت:
بدر کی لڑائی میں، میں صف کے ساتھ کھڑا ہوا تھا۔ میں نے جو دائیں بائیں جانب دیکھا، تو میرے دونوں طرف قبیلہ انصار کے دو نوعمر لڑکے تھے۔ میں نے آرزو کی کاش! میں ان سے زبردست زیادہ عمر والوں کے بیچ میں ہوتا۔ ایک نے میری طرف اشارہ کیا، اور پوچھا چچا! آپ ابوجہل کو بھی پہچانتے ہیں؟ میں نے کہا کہ ہاں! لیکن بیٹے تم لوگوں کو اس سے کیا کام ہے؟ لڑکے نے جواب دیا مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر مجھے وہ مل گیا تو اس وقت تک میں اس سے جدا نہ ہوں گا جب تک ہم میں سے کوئی جس کی قسمت میں پہلے مرنا ہو گا، مر نہ جائے، مجھے اس پر بڑی حیرت ہوئی۔پھر دوسرے نے اشارہ کیا اور وہی باتیں اس نے بھی کہیں۔ ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ مجھے ابوجہل دکھائی دیا جو لوگوں میں (کفار کے لشکر میں) گھومتا پھر رہا تھا۔ میں نے ان لڑکوں سے کہا کہ جس کے متعلق تم لوگ مجھ سے پوچھ رہے تھے، وہ سامنے (پھرتا ہوا نظر آ رہا) ہے۔ دونوں نے اپنی تلواریں سنبھالیں اور اس پر جھپٹ پڑے اور حملہ کر کے اسے قتل کر ڈالا۔اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو خبر دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم دونوں میں سے کس نے اسے مارا ہے؟ دونوں نوجوانوں نے کہا کہ میں نے قتل کیا ہے۔ اس لیے آپ نے ان سے پوچھا کہ کیا اپنی تلواریں تم نے صاف کر لی ہیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں تلواروں کو دیکھا اور فرمایا کہ تم دونوں ہی نے اسے مارا ہے۔ اور اس کا سامان معاذ بن عمرو بن جموح کو ملے گا۔ وہ دونوں نوجوان معاذ بن عفراء اور معاذ بن عمرو بن جموع تھے۔محمد نے کہا یوسف نے صالح سے سنا اور ابراہیم نے اپنے باپ سے سنا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۱۴۱ کا خلاصہ
اس روایت میں غزوہ بدر کا ایک واقعہ بیان ہوا ہے۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ صف میں کھڑے تھے، ان کے دائیں بائیں دو کم عمر انصاری لڑکے تھے۔ پہلے ایک نے پوچھا کہ کیا آپ ابو جہل کو پہچانتے ہیں؟ اس نے وجہ بتائی کہ اسے معلوم ہوا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے۔ پھر دوسرے نوجوان نے بھی یہی بات کہی۔ جب ابو جہل سامنے آیا تو حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اشارہ کیا۔ دونوں نوجوان تلواریں لے کر اس پر جھپٹے اور اسے قتل کیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ نے دونوں کی تلواریں دیکھ کر فرمایا کہ تم دونوں نے اسے قتل کیا ہے، مگر اس کا سامان معاذ بن عمرو بن جموح کو ملا۔ یہ حدیث عزم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیرت، گواہی اور مقتول کے سامان کے فیصلے کو بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کم عمر نوجوانوں کے اندر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور دفاع کا جذبہ تھا۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں تلواریں دیکھ کر فیصلہ فرمایا۔
- غزوہ بدر کے واقعہ میں گواہی اور نشان دیکھنے کا پہلو موجود ہے۔
