صحیح بخاری حدیث ۴۶۰۹ - مقداد رضی اللہ عنہ کی وفاداری

بدر کے دن مقداد رضی اللہ عنہ کی وفاداری اور ساتھ دینے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۰۹

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مُخَارِقٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : شَهِدْتُ مِنَ الْمِقْدَادِ . ح وحَدَّثَنِي حَمْدَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُخَارِقٍ ، عَنْ طَارِقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ الْمِقْدَادُ : " يَوْمَ بَدْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا لَا نَقُولُ لَكَ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى ، فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلا إِنَّا هَهُنَا قَاعِدُونَ سورة المائدة آية 24 ، وَلَكِنْ امْضِ وَنَحْنُ مَعَكَ ، فَكَأَنَّهُ سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَرَوَاهُ وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُخَارِقٍ ، عَنْ طَارِقٍ ، أَنَّ الْمِقْدَادَ قَالَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

ابن مسعود روایت:

میں مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے قریب موجود تھا (دوسری سند) اور مجھ سے حمدان بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالنضر (ہاشم بن قاسم) نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن عبدالرحمٰن اشجعی نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے مخارق بن عبداللہ نے، ان سے طارق بن شہاب نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ بدر کے موقع پر مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: یا رسول اللہ! ہم آپ سے وہ بات نہیں کہیں گے جو بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی «فاذهب أنت وربك فقاتلا إنا ها هنا قاعدون» کہ ”آپ خود اور آپ کے خدا چلے جائیں اور آپ دونوں لڑ بھڑ لیں۔ ہم تو یہاں سے ٹلنے کے نہیں۔“ نہیں! آپ چلئے، ہم آپ کے ساتھ جان دینے کو حاضر ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اس بات سے خوشی ہوئی۔اس حدیث کو وکیع نے بھی سفیان ثوری سے، انہوں نے مخارق سے، انہوں نے طارق سے روایت کیا ہے کہ مقداد رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عرض کیا (جو اوپر بیان ہوا)۔

صحیح بخاری حدیث ۴۶۰۹ کا خلاصہ

یہ حدیث غزوہ بدر کے موقع پر مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کی بات بیان کرتی ہے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہم وہ بات نہیں کہیں گے جو بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی کہ آپ اور آپ کا رب جا کر لڑیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں۔ بلکہ انہوں نے کہا کہ آپ آگے بڑھیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ اس بات سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشی ہوئی۔ اس روایت کا اصل موضوع وفاداری، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ، اور مشکل وقت میں ثابت قدمی ہے۔ یہاں صحابی کا جذبہ صاف ہے کہ دین کے کام میں صرف بات نہیں، عمل اور ساتھ بھی ضروری ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مشکل وقت میں حق کا ساتھ دینا صحابہ کا طریقہ تھا۔
  • مقداد رضی اللہ عنہ نے بنی اسرائیل جیسا جواب دینے سے انکار کیا۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کی وفاداری سے خوش ہوئے۔
  • دینی کام میں زبان کے ساتھ عملی ساتھ بھی اہم ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں