صحیح بخاری حدیث ۴۶۰۸ - تیمم مسلمانوں کے لیے آسانی

تیمم کی برکت: پانی نہ ملنے پر اللہ کی دی ہوئی آسانی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۰۸

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : " سَقَطَتْ قِلَادَةٌ لِي بِالْبَيْدَاءِ ، وَنَحْنُ دَاخِلُونَ الْمَدِينَةَ ، فَأَنَاخَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَزَلَ ، فَثَنَى رَأْسَهُ فِي حَجْرِي رَاقِدًا ، أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ ، فَلَكَزَنِي لَكْزَةً شَدِيدَةً ، وَقَالَ : حَبَسْتِ النَّاسَ فِي قِلَادَةٍ ، فَبِي الْمَوْتُ لِمَكَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَوْجَعَنِي ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ ، وَحَضَرَتِ الصُّبْحُ ، فَالْتُمِسَ الْمَاءُ فَلَمْ يُوجَدْ ، فَنَزَلَتْ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ سورة المائدة آية 6 الْآيَةَ ، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ : لَقَدْ بَارَكَ اللَّهُ لِلنَّاسِ فِيكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ ، مَا أَنْتُمْ إِلَّا بَرَكَةٌ لَهُمْ .

عائشہ روایت:

میرا ہار مقام بیداء میں گم ہو گیا تھا۔ ہم مدینہ واپس آ رہے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں اپنی سواری روک دی اور اتر گئے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سر مبارک میری گود میں رکھ کر سو رہے تھے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اندر آ گئے اور میرے سینے پر زور سے ہاتھ مار کر فرمایا کہ ایک ہار کے لیے تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو روک لیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام کے خیال سے میں بےحس و حرکت بیٹھی رہی حالانکہ مجھے تکلیف ہوئی تھی۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے اور صبح کا وقت ہوا اور پانی کی تلاش ہوئی لیکن کہیں پانی کا نام و نشان نہ تھا۔ اسی وقت یہ آیت اتری «يا أيها الذين آمنوا إذا قمتم إلى الصلاة» الخ۔ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے آل ابی بکر! تمہیں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے باعث برکت بنایا ہے۔ یقیناً تم لوگوں کے لیے باعث برکت ہو۔ تمہارا ہار گم ہوا اللہ نے اس کی وجہ سے تیمم کی آیت نازل فرما دی جو قیامت تک مسلمانوں کے لیے آسانی اور برکت ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۶۰۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں بھی عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہار کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ مقام بیداء میں ہار گم ہوا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام فرمایا، اور صبح کے وقت پانی تلاش کیا گیا مگر پانی نہ ملا۔ اسی موقع پر سورۃ المائدہ کی آیت «يا أيها الذين آمنوا إذا قمتم إلى الصلاة» نازل ہوئی، جس میں تیمم کا حکم آیا۔ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے آل ابی بکر کو برکت کہا، کیونکہ اس واقعے کے ذریعے مسلمانوں کے لیے ایک آسان حکم آیا۔ اس روایت میں تیمم کی برکت، پانی نہ ملنے پر نماز کی تیاری، اور اللہ کی طرف سے سہولت کا صاف بیان ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • پانی نہ ہو تو اللہ نے تیمم کی صورت میں آسانی رکھی ہے۔
  • ایک ذاتی مشکل کبھی عام مسلمانوں کے فائدے کا سبب بن سکتی ہے۔
  • صحابہ کرام اللہ کے حکم آتے ہی اس پر عمل کرتے تھے۔
  • تیمم کا حکم نماز کی تیاری سے جڑا ہوا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں