صحیح بخاری حدیث ۳۱۴۶ - قریش کو دل ملانے کے لیے دینا

تالیف قلب کی حدیث: قریش کو دلجوئی کے لیے عطیہ دینا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۴۶

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي أُعْطِي قُرَيْشًا أَتَأَلَّفُهُمْ لِأَنَّهُمْ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ " .

انس بن مالک روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قریش کو میں ان کا دل ملانے کے لیے دیتا ہوں، کیونکہ ان کی جاہلیت (کفر) کا زمانہ ابھی تازہ گزرا ہے (ان کی دلجوئی کرنا ضروری ہے)۔“

صحیح بخاری حدیث ۳۱۴۶ کا خلاصہ

یہ مختصر مگر بہت اہم حدیث ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں قریش کو اس لیے دیتا ہوں کہ ان کے دل ملاؤں، کیونکہ ان کا جاہلیت کا زمانہ ابھی تازہ گزرا ہے۔ یہاں مال دینے کا مقصد عام خوشامد نہیں بلکہ دلوں کو دین کے قریب رکھنا بتایا گیا ہے۔ اس روایت سے مال کی تقسیم کا ایک خاص سبب سامنے آتا ہے: بعض نئے یا کمزور حالات والے لوگوں کے دل مضبوط کرنے کے لیے انہیں عطیہ دیا جا سکتا ہے۔ اس لیے تالیف قلب کی حدیث کو سمجھتے ہوئے یہ خیال رکھنا چاہیے کہ بات صرف قریش کو مال دینے کی نہیں، بلکہ ان کی حالیہ کیفیت کا لحاظ کرنے کی ہے۔ حدیث ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ لوگوں کے پس منظر اور دل کی حالت کو حکمت کے ساتھ دیکھا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مال کبھی دلجوئی اور دل ملانے کے لیے دیا جا سکتا ہے۔
  • نئے حالات سے گزرنے والے لوگوں کے ساتھ حکمت سے معاملہ کیا گیا۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو دینے کی وجہ خود بیان فرمائی۔
  • تقسیم کو سمجھنے کے لیے صرف رقم نہیں، مقصد بھی دیکھا جاتا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں