صحیح بخاری حدیث ۳۱۴۵ - مال کی تقسیم اور دلوں کا حال
مال کی تقسیم کی حدیث: دلجوئی، بھروسہ اور بے نیازی
صحیح بخاری : ۳۱۴۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۴۵
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا وَمَنَعَ آخَرِينَ فَكَأَنَّهُمْ عَتَبُوا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " إِنِّي أُعْطِي قَوْمًا أَخَافُ ظَلَعَهُمْ وَجَزَعَهُمْ وَأَكِلُ أَقْوَامًا إِلَى مَا جَعَلَ اللَّهُ فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْخَيْرِ وَالْغِنَى مِنْهُمْ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ، فَقَالَ : عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِكَلِمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُمْرَ النَّعَمِ ، وَزَادَ أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِمَالٍ أَوْ بِسَبْيٍ فَقَسَمَهُ بِهَذَا " .
عمرو بن تغلب روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دیا اور کچھ لوگوں کو نہیں دیا۔ غالباً جن لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں دیا تھا، ان کو ناگوار ہوا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں کچھ ایسے لوگوں کو دیتا ہوں کہ مجھے جن کے بگڑ جانے (اسلام سے پھر جانے) اور بے صبری کا ڈر ہے۔ اور کچھ لوگ ایسے ہیں جن پر میں بھروسہ کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں بھلائی اور بے نیازی رکھی ہے (ان کو میں نہیں دیتا) عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ بھی انہیں میں شامل ہیں۔عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری نسبت یہ جو کلمہ فرمایا اگر اس کے بدلے سرخ اونٹ ملتے تو بھی میں اتنا خوش نہ ہوتا۔ ابوعاصم نے جریر سے بیان کیا کہ میں نے حسن بصریٰ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ ہم سے عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال یا قیدی آئے تھے اور انہیں کو آپ نے تقسیم فرمایا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۱۴۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیمِ مال کا ایک لطیف پہلو بیان ہوا ہے۔ کچھ لوگوں کو دیا گیا اور کچھ کو نہیں دیا گیا، تو جنہیں نہ ملا انہیں شاید ناگواری ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھایا کہ بعض لوگوں کو اس لیے دیا جاتا ہے کہ ان کے بگڑ جانے یا بے صبری کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے خیر اور بے نیازی رکھی ہوتی ہے، اس لیے انہیں ان کے دل کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ نے اس بات کو اپنے لیے اتنی بڑی عزت سمجھا کہ سرخ اونٹ بھی اس کے بدلے پسند نہ کرتے۔ یہ تالیف قلب، دلجوئی اور قناعت کی حدیث ہے، نہ کہ صرف مال ملنے یا نہ ملنے کی بات۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر تقسیم کا مطلب یہ نہیں کہ جسے ملا وہ لازماً زیادہ افضل ہے۔
- کبھی مال دلجوئی اور کمزور دلوں کو سنبھالنے کے لیے دیا جاتا ہے۔
- بے نیازی اور دل کی خیر بھی اللہ کی بڑی نعمت ہے۔
- عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ نے مال کے بجائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اچھی گواہی کو قیمتی سمجھا۔
