صحیح بخاری حدیث ۳۱۴۴ - اعتکاف کی نذر پوری کرنے کا حکم

اعتکاف کی نذر کی حدیث: نذر پوری کرنے کا سادہ حکم

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۴۴

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ كَانَ عَلَيَّ اعْتِكَافُ يَوْمٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَمَرَهُ أَنْ يَفِيَ بِهِ ، قَالَ : " وَأَصَابَ عُمَرُ جَارِيَتَيْنِ مِنْ سَبْيِ حُنَيْنٍ فَوَضَعَهُمَا فِي بَعْضِ بُيُوتِ مَكَّةَ ، قَالَ : فَمَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَبْيِ حُنَيْنٍ فَجَعَلُوا يَسْعَوْنَ فِي السِّكَكِ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ انْظُرْ مَا هَذَا ، فَقَالَ : مَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّبْيِ ، قَالَ : اذْهَبْ فَأَرْسِلِ الْجَارِيَتَيْنِ ، قَالَ نَافِعٌ : وَلَمْ يَعْتَمِرْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْجِعْرَانَةِ وَلَوِ اعْتَمَرَ لَمْ يَخْفَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ ، وَزَادَ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : مِنَ الْخُمُسِ ، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ فِي النَّذْرِ وَلَمْ يَقُلْ يَوْمٍ " .

نافع روایت:

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! زمانہ جاہلیت (کفر) میں میں نے ایک دن کے اعتکاف کی منت مانی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پورا کرنے کا حکم فرمایا۔نافع نے بیان کیا کہ حنین کے قیدیوں میں سے عمر رضی اللہ عنہ کو دو باندیاں ملی تھیں۔ تو آپ نے انہیں مکہ کے کسی گھر میں رکھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے قیدیوں پر احسان کیا (اور سب کو مفت آزاد کر دیا) تو گلیوں میں وہ دوڑنے لگے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، عبداللہ! دیکھو تو یہ کیا معاملہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر احسان کیا ہے (اور حنین کے تمام قیدی مفت آزاد کر دئیے گئے ہیں) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر جا ان دونوں لڑکیوں کو بھی آزاد کر دے۔نافع نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام جعرانہ سے عمرہ کا احرام نہیں باندھا تھا۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے عمرہ کا احرام باندھتے تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ ضرور معلوم ہوتا اور جریر بن حازم نے جو ایوب سے روایت کی، انہوں نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، اس میں یوں ہے کہ (وہ دونوں باندیاں جو عمر رضی اللہ عنہ کو ملی تھیں) خمس میں سے تھیں۔ (اعتکاف سے متعلق یہ روایت) معمر نے ایوب سے نقل کی ہے، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نذر کا قصہ جو روایت کیا ہے اس میں ایک دن کا لفظ نہیں ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۳۱۴۴ کا خلاصہ

اس روایت کا مرکزی حصہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی نذر سے متعلق ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ زمانہ جاہلیت میں ایک دن کے اعتکاف کی نذر مانی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسے پورا کرنے کا حکم دیا۔ اس سے نذر کی حدیث میں یہ بات صاف آتی ہے کہ اللہ کی اطاعت سے متعلق نذر کو ہلکا نہیں لینا چاہیے۔ اسی روایت میں حنین کے قیدیوں کا واقعہ بھی آیا ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں کو آزاد کیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی دو باندیوں کو بھی چھوڑ دینے کا حکم دیا۔ روایت کے آخر میں جعرانہ سے عمرہ کے احرام کے بارے میں نافع کا بیان بھی ہے۔ یہاں اصل سبق حکم سن کر عمل، نذر کی پابندی اور رہائی میں پیروی کا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اطاعت والی نذر کو پورا کرنے کا حکم اس روایت میں واضح ہے۔
  • صحابہ رضی اللہ عنہم حکم ملنے کے بعد عمل میں دیر نہیں کرتے تھے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی باندیوں کو بھی آزاد کیا۔
  • روایت کے مختلف حصوں کو الگ الگ سمجھنا چاہیے؛ نذر، قیدیوں کی رہائی اور عمرہ کا بیان جدا ہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں