صحیح بخاری حدیث ۳۱۴۹ - سخت رویے پر نرمی اور عطا

بردباری کی حدیث: سختی کے جواب میں نرمی اور سخاوت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۴۹

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِيٌّ ، فَجَذَبَهُ جَذْبَةً شَدِيدَةً حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى صَفْحَةِ عَاتِقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَثَّرَتْ بِهِ حَاشِيَةُ الرِّدَاءِ مِنْ شِدَّةِ جَذْبَتِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَكَ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَضَحِكَ ، ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ " .

انس بن مالک روایت:

میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نجران کی بنی ہوئی چوڑے حاشیہ کی ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے۔ اتنے میں ایک دیہاتی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا اور زور سے آپ کو کھینچا، میں نے آپ کے شانے کو دیکھا، اس پر چادر کے کونے کا نشان پڑ گیا، ایسا کھینچا۔ پھر کہنے لگا۔ اللہ کا مال جو آپ کے پاس ہے اس میں سے کچھ مجھ کو دلائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور ہنس دئیے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دینے کا حکم فرمایا (آخری جملہ میں سے ترجمۃ الباب نکلتا ہے)۔

صحیح بخاری حدیث ۳۱۴۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے۔ آپ کے جسم پر نجران کی موٹی حاشیے والی چادر تھی۔ ایک دیہاتی نے آ کر چادر کو اتنی زور سے کھینچا کہ اس کا نشان آپ کے کندھے پر پڑ گیا۔ اس نے کہا کہ اللہ کے مال میں سے مجھے دلائیے جو آپ کے پاس ہے۔ عام طور پر ایسے سخت رویے پر انسان ناراض ہو جاتا ہے، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا، مسکرائے، اور اسے عطیہ دینے کا حکم فرمایا۔ یہ بردباری کی حدیث ہے، ساتھ ہی رسول اللہ کی سخاوت اور نرم مزاجی بھی دکھاتی ہے۔ روایت میں یہی بات ہے کہ سخت مطالبے کے باوجود آپ کا جواب نرمی اور عطا تھا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سخت رویے کے جواب میں نرمی اختیار کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق میں سے ہے۔
  • آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکلیف کے باوجود مسکرا کر جواب دیا۔
  • مانگنے والے کو عطیہ دینے کا حکم فرمایا گیا، حالانکہ اس کا انداز سخت تھا۔
  • یہ روایت سخاوت کے ساتھ حلم اور برداشت کا بھی سبق دیتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں