صحیح بخاری حدیث ۳۱۵۰ - تقسیم غنیمت میں عدل اور صبر

تقسیم غنیمت کا عدل: اعتراض کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صبر

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۵۰

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ آثَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسًا فِي الْقِسْمَةِ ، فَأَعْطَى الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ وَأَعْطَى عُيَيْنَةَ مِثْلَ ذَلِكَ وَأَعْطَى أُنَاسًا مِنْ أَشْرَافِ الْعَرَبِ فَآثَرَهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْقِسْمَةِ ، قَالَ : رَجُلٌ وَاللَّهِ إِنَّ هَذِهِ الْقِسْمَةَ مَا عُدِلَ فِيهَا وَمَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَأُخْبِرَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : فَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ يَعْدِلِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ رَحِمَ اللَّهُ مُوسَى قَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ " .

عبداللہ بن مسعود روایت:

حنین کی لڑائی کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (غنیمت کی) تقسیم میں بعض لوگوں کو زیادہ دیا۔ جیسے اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کو سو اونٹ دئیے، اتنے ہی اونٹ عیینہ بن حصین رضی اللہ عنہ کو دئیے اور کئی عرب کے اشراف لوگوں کو اسی طرح تقسیم میں زیادہ دیا۔ اس پر ایک شخص (معتب بن قشیر منافق) نے کہا، کہ اللہ کی قسم! اس تقسیم میں نہ تو عدل کو ملحوظ رکھا گیا ہے اور نہ اللہ کی خوشنودی کا خیال ہوا۔میں نے کہا کہ واللہ! اس کی خبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور دوں گا۔ چنانچہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آپ کو اس کی خبر دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر فرمایا ”اگر اللہ اور اس کا رسول بھی عدل نہ کرے تو پھر کون عدل کرے گا۔ اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے کہ ان کو لوگوں کے ہاتھ اس سے بھی زیادہ تکلیف پہنچی لیکن انہوں نے صبر کیا۔“

صحیح بخاری حدیث ۳۱۵۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں حنین کے بعد غنیمت کی تقسیم کا ذکر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض اشرافِ عرب کو زیادہ دیا، جیسے اقرع بن حابس اور عیینہ بن حصن کو سو سو اونٹ دیے۔ ایک شخص نے اس تقسیم پر سخت بات کہی کہ اس میں عدل نہیں ہوا اور اللہ کی خوشنودی کا ارادہ نہیں کیا گیا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اللہ اور اس کا رسول عدل نہ کریں تو پھر کون عدل کرے گا۔ پھر موسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا کہ انہیں اس سے زیادہ تکلیف دی گئی مگر انہوں نے صبر کیا۔ یہ تقسیم غنیمت، عدل پر اعتماد اور تکلیف کے وقت صبر کی حدیث ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم پر بدگمانی کرنا بہت سخت بات ہے۔
  • آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتراض کے جواب میں صبر کا راستہ اختیار کیا۔
  • موسیٰ علیہ السلام کی مثال دے کر تکلیف سہنے کا ذکر فرمایا گیا۔
  • ظاہری فرق دیکھ کر فوراً ناانصافی کا حکم نہیں لگانا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں