صحیح بخاری حدیث ۳۱۵۵ - گھریلو گدھے کے گوشت کی ممانعت
گھریلو گدھے کے گوشت کی حدیث: خیبر میں ہانڈیاں الٹنے کا حکم
صحیح بخاری : ۳۱۵۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۵۵
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : أَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ لَيَالِيَ خَيْبَرَ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ وَقَعْنَا فِي الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ فَانْتَحَرْنَاهَا فَلَمَّا غَلَتِ الْقُدُورُ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَكْفِئُوا الْقُدُورَ فَلَا تَطْعَمُوا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ شَيْئًا ، قَالَ : عَبْدُ اللَّهِ ، فَقُلْنَا : " إِنَّمَا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهَا لَمْ تُخَمَّسْ ، قَالَ : " وَقَالَ آخَرُونَ حَرَّمَهَا أَلْبَتَّةَ وَسَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، فَقَالَ : حَرَّمَهَا أَلْبَتَّةَ " .
´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، ان سے شیبانی نے بیان کیا، کہا میں نے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ بیان کرتے تھے کہ` جنگ خیبر کے موقع پر فاقوں پر فاقے ہونے لگے۔ آخر جس دن خیبر فتح ہوا تو (مال غنیمت میں) گھریلو گدھے بھی ہمیں ملے۔ چنانچہ انہیں ذبح کر کے (پکانا شروع کر دیا گیا) جب ہانڈیوں میں جوش آنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ ہانڈیوں کو الٹ دو اور گھریلو گدھے کے گوشت میں سے کچھ نہ کھاؤ۔ عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بعض لوگوں نے اس پر کہا کہ غالباً پ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے روک دیا ہے کہ ابھی تک اس میں سے خمس نہیں نکالا گیا تھا۔ لیکن بعض دوسرے صحابہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھے کا گوشت قطعی طور پر حرام قرار دیا ہے۔ (شیبانی نے بیان کیا کہ) میں نے سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قطعی طور پر حرام کر دیا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۱۵۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں خیبر کے دن کا واقعہ ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کو سخت بھوک لگی ہوئی تھی، پھر گھریلو گدھے مال میں ملے تو انہیں ذبح کر کے پکانا شروع کیا گیا۔ جب ہانڈیاں جوش کھانے لگیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ ہانڈیاں الٹ دو اور گھریلو گدھے کے گوشت میں سے کچھ نہ کھاؤ۔ بعض لوگوں نے خیال کیا کہ شاید اس لیے روکا گیا کہ خمس نہیں نکلا، مگر دوسرے صحابہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قطعی حرام قرار دیا ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے بھی کہا کہ آپ نے اسے قطعی حرام کر دیا تھا۔ یہ گھریلو گدھے کے گوشت، خیبر اور حلال حرام کی واضح حدیث ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گھریلو گدھے کا گوشت کھانے سے منع کیا گیا۔
- حکم آنے کے بعد پک رہی ہانڈیاں الٹنے کا اعلان ہوا۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم نے سبب پر گفتگو کی، مگر آخر میں حرمت کا بیان نقل ہوا۔
- بھوک کے باوجود شرعی حکم کو ترجیح دی گئی۔
