صحیح بخاری حدیث ۳۱۵۴ - غزووں میں شہد اور انگور کھانا
غنیمت میں کھانے کی چیزیں: شہد اور انگور والی حدیث
صحیح بخاری : ۳۱۵۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۵۴
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " كُنَّا نُصِيبُ فِي مَغَازِينَا الْعَسَلَ ، وَالْعِنَبَ فَنَأْكُلُهُ ، وَلَا نَرْفَعُهُ " .
ابن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں) غزووں میں ہمیں شہد اور انگور ملتا تھا۔ ہم اسے اسی وقت کھا لیتے (تقسیم کے لیے اٹھا نہ رکھتے)۔
صحیح بخاری حدیث ۳۱۵۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن عمر رضی اللہ عنہما بتاتے ہیں کہ غزووں میں انہیں شہد اور انگور ملتا تھا، تو وہ اسے کھا لیتے تھے اور اسے اٹھا کر ذخیرہ نہیں کرتے تھے۔ روایت بہت مختصر ہے، مگر اس میں غنیمت کے اندر کھانے پینے کی فوری چیزوں کا ایک عملی طریقہ سامنے آتا ہے۔ یہاں خاص طور پر شہد اور انگور کا نام آیا ہے، اس لیے وضاحت بھی اسی حد تک رکھنی چاہیے۔ یہ حدیث غنیمت کا مال، سفرِ جہاد اور کھانے کی چیزوں کے بارے میں ہے۔ اس کا سادہ پیغام یہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم بعض کھانے کی چیزیں موقع پر کھا لیتے تھے، انہیں تقسیم کے لیے جمع کر کے نہیں رکھتے تھے۔ اس سے میدان کے حالات اور عملی آسانی کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غزووں میں ملنے والی بعض کھانے کی چیزیں صحابہ رضی اللہ عنہم موقع پر کھا لیتے تھے۔
- روایت میں خاص طور پر شہد اور انگور کا ذکر ہے۔
- یہ چیزیں اٹھا کر ذخیرہ نہیں کی جاتیں تھیں، جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا۔
- حدیث کو اسی خاص معاملے کے اندر سمجھنا چاہیے۔
