صحیح بخاری حدیث ۳۱۵۳ - غنیمت کے مال میں حیا
غنیمت کے مال کی حدیث: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حیا
صحیح بخاری : ۳۱۵۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۵۳
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كُنَّا مُحَاصِرِينَ قَصْرَ خَيْبَرَ فَرَمَى إِنْسَانٌ بِجِرَابٍ فِيهِ شَحْمٌ فَنَزَوْتُ لِآخُذَهُ فَالْتَفَتُّ ، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ " .
عبداللہ بن مغفل روایت:
ہم خیبر کے محل کا محاصرہ کئے ہوئے تھے۔ کسی شخص نے ایک کپی پھینکی جس میں چربی بھری ہوئی تھی۔ میں اسے لینے کے لیے لپکا، لیکن مڑ کر جو دیکھا تو پاس ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے۔ میں شرم سے پانی پانی ہو گیا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۱۵۳ کا خلاصہ
اس مختصر حدیث میں عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ خیبر کے قلعے کے محاصرے کا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ کسی نے ایک تھیلا پھینکا جس میں چربی تھی۔ وہ اسے لینے کے لیے فوراً لپکے۔ پھر جب مڑ کر دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پاس ہی موجود تھے، اس پر انہیں شرم آئی۔ روایت میں کوئی لمبا حکم بیان نہیں ہوا، اس لیے اسے بڑھا کر کوئی عام قانون بنانا مناسب نہیں۔ لیکن واقعہ یہ ضرور بتاتا ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اپنے عمل کو فوراً پرکھتے تھے۔ غنیمت کا مال، کھانے کی چیز اور میدانِ خیبر کا ماحول اس روایت میں موجود ہیں، مگر سب سے نمایاں بات حیا اور ادب ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی کا بہت ادب کرتے تھے۔
- عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کو اپنے عمل پر فوراً حیا محسوس ہوئی۔
- روایت میں چربی کے تھیلے کا واقعہ ہے؛ اس سے زیادہ بات اپنی طرف سے نہیں بڑھانی چاہیے۔
- انسان کو اپنے عمل کا احساس زندہ رکھنا چاہیے۔
