صحیح بخاری حدیث ۳۱۵۲ - خیبر کی زمین اور معاہدہ
خیبر کی زمین کی حدیث: آدھی پیداوار پر کام کا معاہدہ
صحیح بخاری : ۳۱۵۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۵۲
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَجْلَى الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَمَّا ظَهَرَ عَلَى أَهْلِ خَيْبَرَ أَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ الْيَهُودَ مِنْهَا وَكَانَتِ الْأَرْضُ لَمَّا ظَهَرَ عَلَيْهَا لِلْيَهُودِ وَلِلرَّسُولِ وَلِلْمُسْلِمِينَ ، فَسَأَلَ الْيَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتْرُكَهُمْ عَلَى أَنْ يَكْفُوا الْعَمَلَ وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نُقِرُّكُمْ عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا فَأُقِرُّوا حَتَّى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ فِي إِمَارَتِهِ إِلَى تَيْمَاءَ وأَرِيحَا " .
عبداللہ بن عمر روایت:
عمر نے یہود و نصاریٰ کو سر زمین حجاز سے نکال کر دوسری جگہ بسا دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر فتح کیا تو آپ کا بھی ارادہ ہوا تھا کہ یہودیوں کو یہاں سے نکال دیا جائے۔ جب آپ نے فتح پائی تو اس وقت وہاں کی کچھ زمین یہودیوں کے قبضے میں ہی تھی۔ اور اکثر زمین پیغمبر علیہ السلام اور مسلمانوں کے قبضے میں تھی۔ لیکن پھر یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی، آپ زمین انہیں کے پاس رہنے دیں۔ وہ (کھیتوں اور باغوں میں) کام کیا کریں گے۔ اور آدھی پیداوار لیں گے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اچھا جب تک ہم چاہیں گے اس وقت تک کے لیے تمہیں اس شرط پر یہاں رہنے دیں گے۔ چنانچہ یہ لوگ وہیں رہے اور پھر عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے دور خلافت میں (مسلمانوں کے خلاف ان کے فتنوں اور سازشوں کی وجہ سے یہود خیبر کو) تیماء یا اریحا کی طرف نکال دیا تھا۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۱۵۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں خیبر کی فتح کے بعد زمین کے معاملے کا ذکر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ تھا کہ یہودیوں کو وہاں سے نکال دیا جائے، مگر انہوں نے درخواست کی کہ انہیں زمین پر رہنے دیا جائے، وہ کام کریں گے اور آدھی پیداوار لیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تک ہم چاہیں گے اس شرط پر تمہیں رہنے دیں گے۔ اس سے خیبر کی زمین، آدھی پیداوار اور معاہدہ کی صورت واضح ہوتی ہے۔ روایت میں یہ بھی ہے کہ بعد میں عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں انہیں تیماء یا اریحا کی طرف منتقل کر دیا۔ اس حدیث کو سمجھتے ہوئے یہی کہنا درست ہے کہ اجازت ایک مقرر شرط اور مسلمانوں کی مرضی کے ساتھ تھی، ہمیشہ کے لیے آزاد ملکیت نہیں تھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خیبر کی زمین پر کام کا معاملہ شرط کے ساتھ طے کیا گیا۔
- یہودیوں کو آدھی پیداوار پر کام کرنے کی اجازت دی گئی۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدت کو مسلمانوں کی مرضی کے ساتھ وابستہ فرمایا۔
- بعد میں عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں انہیں دوسری جگہ منتقل کیا۔
