صحیح بخاری حدیث ۳۱۷۹ - مدینہ کی حرمت اور پناہ کا احترام
مدینہ کی حرمت اور مسلمان کی پناہ والی حدیث
صحیح بخاری : ۳۱۷۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۷۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : مَا كَتَبْنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْقُرْآنَ وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَائِرٍ إِلَى كَذَا فَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ، وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ ، وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ وَمَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ " .
علی روایت:
ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بس یہی قرآن مجید لکھا اور جو کچھ اس ورق میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مدینہ عائر پہاڑی اور فلاں (کدیٰ) پہاڑی کے درمیان تک حرم ہے۔ پس جس نے یہاں (دین میں) کوئی نئی چیز داخل کی یا کسی ایسے شخص کو اس کے حدود میں پناہ دی تو اس پر اللہ تعالیٰ، ملائکہ اور انسان سب کی لعنت ہو گی۔ نہ اس کا کوئی فرض قبول اور نہ نفل قبول ہو گا۔ اور مسلمان پناہ دینے میں سب برابر ہیں۔معمولی سے معمولی مسلمان (عورت یا غلام) کسی کافر کو پناہ دے سکتے ہیں۔ اور جو کوئی کسی مسلمان کا کیا ہوا عہد توڑ ڈالے اس پر اللہ اور ملائکہ اور انسان سب کی لعنت ہو گی، نہ اس کی کوئی فرض عبادت قبول ہو گی اور نہ نفل! اور جس غلام یا لونڈی نے اپنے آقا اپنے مالک کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے کو اپنا مالک بنا لیا، تو اس پر اللہ اور ملائکہ اور انسان سب کی لعنت ہو گی، نہ اس کی کوئی فرض عبادت قبول ہو گی اور نہ نفل!
صحیح بخاری حدیث ۳۱۷۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع مدینہ کی حرمت، عہد کی پاسداری، اور مسلمان کی دی ہوئی پناہ ہے۔ علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن اور اس صحیفے کے سوا کچھ نہیں لکھا۔ پھر حدیث میں آیا کہ مدینہ عائر پہاڑی سے فلاں مقام تک حرم ہے۔ جو یہاں دین میں کوئی نئی چیز داخل کرے یا ایسے شخص کو پناہ دے، اس پر سخت وعید ہے۔ اسی طرح مسلمان کی پناہ ایک ہے، یعنی معمولی سے معمولی مسلمان بھی کسی کو پناہ دے سکتا ہے۔ جو شخص کسی مسلمان کے عہد کو توڑے، اس پر بھی سخت وعید ہے۔ آخر میں اس غلام یا لونڈی کا ذکر ہے جو اپنے مالک کی اجازت کے بغیر کسی اور کو مالک بنائے۔ یہ حدیث عہد، امان، اور مدینہ کے احترام کو بہت مضبوط انداز میں بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مدینہ کے حرم ہونے کا احترام کرنا چاہیے۔
- مسلمان کی دی ہوئی پناہ معتبر ہے، چاہے وہ عام مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔
- کسی مسلمان کے عہد کو توڑنا سخت جرم بتایا گیا۔
- دینی معاملات میں اپنی طرف سے نئی چیز داخل کرنے پر سخت وعید آئی ہے۔
