صحیح بخاری حدیث ۳۱۸۰ - عہد شکنی اور جزیہ کا رک جانا
عہد شکنی اور جزیہ بند ہونے کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۱۸۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۸۰
قَالَ أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا لَمْ تَجْتَبُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا ، فَقِيلَ لَهُ : وَكَيْفَ تَرَى ذَلِكَ كَائِنًا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : إِي وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ عَنْ قَوْلِ الصَّادِقِ الْمَصْدُوقِ ، قَالُوا : عَمَّ ذَاكَ ، قَالَ : تُنْتَهَكُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَشُدُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قُلُوبَ أَهْلِ الذِّمَّةِ فَيَمْنَعُونَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ " .
ابوہریرہ روایت:
اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب (جزیہ اور خراج میں سے) نہ تمہیں درہم ملے گا اور نہ دینار! اس پر کسی نے کہا۔ کہ جناب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آپ کیسے سمجھتے ہیں کہ ایسا ہو گا؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ کی جان ہے۔ یہ صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ لوگوں نے پوچھا تھا کہ یہ کیسے ہو جائے گا؟ تو آپ نے فرمایا، جب کہ اللہ اور اس کے رسول کا عہد (اسلامی حکومت غیر مسلموں سے ان کی جان و مال کی حفاظت کے بارے میں) توڑا جانے لگے، تو اللہ تعالیٰ بھی ذمیوں کے دلوں کو سخت کر دے گا۔ اور وہ جزیہ دینا بند کر دیں گے (بلکہ لڑنے کو مستعد ہوں گے)۔
صحیح بخاری حدیث ۳۱۸۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع عہد شکنی کے نتائج ہیں۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تمہارا کیا حال ہو گا جب تمہیں نہ درہم ملے گا نہ دینار۔ لوگوں نے پوچھا کہ یہ کیسے ہو گا؟ انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ یہ صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ پھر وجہ بتائی کہ جب اللہ اور اس کے رسول کا عہد توڑا جانے لگے گا، یعنی ذمیوں کی جان و مال کی حفاظت کے بارے میں جو ذمہ داری ہے وہ پامال ہو گی، تو اللہ تعالیٰ ذمیوں کے دل سخت کر دے گا اور وہ اپنے ہاتھ کا مال روک لیں گے۔ اس حدیث میں مالی نظام کو اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ پیغام صاف ہے کہ عہد ٹوٹے تو اعتماد ٹوٹتا ہے، اور اعتماد ٹوٹے تو مالی معاملہ بھی متاثر ہوتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ذمیوں کے ساتھ کیے گئے عہد کی حفاظت ضروری ہے۔
- عہد شکنی کے اثرات مالی معاملات تک پہنچ سکتے ہیں۔
- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان قرار دیا۔
- جزیہ اور خراج کا معاملہ اعتماد اور حفاظت سے جڑا ہوا ہے۔
