صحیح بخاری حدیث ۶۸۶۷ - ناحق قتل کا گناہ
ناحق قتل کا گناہ اور اس کی سنگینی
صحیح بخاری : ۶۸۶۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۶۷
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ، إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْهَا " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو جان ناحق قتل کی جائے اس کے (گناہ کا) ایک حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے (قابیل پر) پڑتا ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۸۶۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع ناحق قتل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو جان بھی ناحق قتل کی جاتی ہے، اس کے گناہ کا ایک حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے پر پڑتا ہے۔ حدیث میں مختصر مگر سخت انداز میں بتایا گیا ہے کہ قتل ناحق معمولی جرم نہیں۔ یہاں خاص بات یہ ہے کہ پہلے ناحق قتل کی بنیاد رکھنے والے پر بعد کے ناحق قتلوں کا بھی ایک حصہ آتا ہے۔ اس سے یہ سمجھ آتی ہے کہ برائی کی ابتدا کرنا بہت خطرناک کام ہے، کیونکہ اس کے اثرات بعد تک چل سکتے ہیں۔ جان کی حرمت، قتل ناحق کی ممانعت، اور خون ناحق کا وبال اس حدیث کے اصل پیغام ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ناحق قتل بہت بڑا گناہ ہے۔
- برائی کی ابتدا کرنے والا بعد میں آنے والے اثرات کا بوجھ بھی اٹھا سکتا ہے۔
- انسانی جان کے معاملے میں ظلم اور زیادتی سے بچنا ضروری ہے۔
