صحیح بخاری حدیث ۶۸۶۶ - ایمان چھپانے والے مسلمان کی جان کی حرمت
ایمان چھپانے والے مسلمان کی جان کی حرمت
صحیح بخاری : ۶۸۶۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۶۶
وَقَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمِقْدَادِ : " إِذَا كَانَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ يُخْفِي إِيمَانَهُ ، مَعَ قَوْمٍ كُفَّارٍ ، فَأَظْهَرَ إِيمَانَهُ ، فَقَتَلْتَهُ ، فَكَذَلِكَ كُنْتَ أَنْتَ تُخْفِي إِيمَانَكَ بِمَكَّةَ مِنْ قَبْلُ " .
ابن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقداد رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ اگر کوئی مسلمان کافروں کے ساتھ رہتا ہو پھر وہ ڈر کے مارے اپنا ایمان چھپاتا ہو، اگر وہ اپنا ایمان ظاہر کر دے اور تو اس کو مار ڈالے یہ کیوں کر درست ہو گا خود تم بھی تو مکہ میں پہلے اپنا ایمان چھپاتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۶۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع جان کی حرمت اور ایمان کی پہچان ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقداد رضی اللہ عنہ کو سمجھایا کہ اگر کوئی شخص کافروں کے درمیان رہتے ہوئے خوف کی وجہ سے اپنا ایمان چھپاتا ہو، پھر موقع ملنے پر اپنا ایمان ظاہر کر دے، تو اسے قتل کرنا درست نہیں۔ اس بات کو سمجھانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اپنے پہلے حال کی طرف اشارہ فرمایا کہ تم بھی مکہ میں پہلے اپنا ایمان چھپاتے تھے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کے ظاہر کیے ہوئے ایمان کو ہلکا نہیں لینا چاہیے۔ مسلمان کی جان کی حرمت بہت بڑی بات ہے، خاص طور پر جب وہ اپنا ایمان ظاہر کر چکا ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خوف کی وجہ سے ایمان چھپانا ایسی حالت ہو سکتی ہے جسے سمجھنا چاہیے۔
- جب کوئی اپنا ایمان ظاہر کرے تو اس کے معاملے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔
- مسلمان کی جان کے بارے میں فیصلہ انتہائی احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔
