صحیح بخاری حدیث ۶۸۷۸ - مسلمان کے خون کی حرمت

مسلمان کے خون کی حرمت اور تین مستثنیٰ صورتیں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۷۸

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ ، يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ : النَّفْسُ بِالنَّفْسِ ، وَالثَّيِّبُ الزَّانِي ، وَالْمَارِقُ مِنَ الدِّينِ التَّارِكُ لِلْجَمَاعَةِ " .

عبداللہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی مسلمان کا خون جو کلمہ لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ کا ماننے والا ہو حلال نہیں ہے البتہ تین صورتوں میں جائز ہے۔ جان کے بدلہ جان لینے والا، شادی شدہ ہو کر زنا کرنے والا اور اسلام سے نکل جانے والا (مرتد) جماعت کو چھوڑ دینے والا۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۸۷۸ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع مسلمان کی جان کی حرمت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی ایسے مسلمان کا خون حلال نہیں جو لا الہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کا اقرار کرتا ہو، مگر تین صورتوں میں: جان کے بدلے جان، شادی شدہ ہو کر زنا کرنے والا، اور اسلام سے نکل کر جماعت کو چھوڑ دینے والا۔ حدیث میں اصل قاعدہ پہلے بیان ہوا کہ مسلمان کا خون حلال نہیں۔ پھر مخصوص صورتیں بتائی گئیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جان کے معاملے میں اسلام کا اصول بہت مضبوط ہے، اور خون کو عام جذبات، غصے یا ذاتی فیصلے پر حلال نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ حدیث جان کی حرمت، قصاص، اور شرعی حدود کے موضوعات سے متعلق ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مسلمان کی جان اصل طور پر محترم ہے۔
  • حدیث میں صرف تین خاص صورتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
  • جان کے معاملے کو ذاتی غصے یا گمان کے سپرد نہیں کیا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں