صحیح بخاری حدیث ۶۸۷۹ - زیور کے لالچ میں قتل اور قصاص
زیور کے لالچ میں قتل اور قصاص کا سبق
صحیح بخاری : ۶۸۷۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۷۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا ، فَقَتَلَهَا بِحَجَرٍ ، فَجِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ ، فَقَالَ : " أَقَتَلَكِ فُلَانٌ ؟ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا ، ثُمَّ قَالَ : الثَّانِيَةَ ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا ، ثُمَّ سَأَلَهَا الثَّالِثَةَ ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ نَعَمْ ، فَقَتَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَجَرَيْنِ " .
انس روایت:
ایک یہودی نے ایک لڑکی کو اس کے چاندی کے زیور کے لالچ میں مار ڈالا تھا۔ اس نے لڑکی کو پتھر سے مارا پھر لڑکی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی تو اس کے جسم میں جان باقی تھی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ اس نے سر کے اشارہ سے انکار کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ پوچھا، کیا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ اس مرتبہ بھی اس نے سر کے اشارے سے انکار کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تیسری مرتبہ پوچھا تو اس نے سر کے اشارہ سے اقرار کیا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی کو دو پتھروں میں کچل کر قتل کر دیا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۷۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع قصاص اور لالچ کے نتیجے میں قتل ہے۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کو اس کے چاندی کے زیور کے لالچ میں قتل کر دیا۔ لڑکی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو اس میں جان باقی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ مختلف انداز سے پوچھا۔ پہلے دو سوالوں پر لڑکی نے سر کے اشارے سے انکار کیا، تیسرے پر اقرار کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتل کو دو پتھروں میں کچل کر قتل کر دیا۔ حدیث بتاتی ہے کہ مال کے لالچ میں جان لینا بہت سنگین جرم ہے، اور قتل کے معاملے میں قصاص کا حکم نافذ ہوا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مال کے لالچ میں جان لینا سخت جرم ہے۔
- قتل کے معاملے میں سوال اور پہچان کا ذکر آیا ہے۔
- قاتل کے خلاف قصاص نافذ کیا گیا۔
