صحیح بخاری حدیث ۶۸۷۶ - قتل کے بدلے قصاص
قتل کے اقرار کے بعد قصاص کا حکم
صحیح بخاری : ۶۸۷۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۷۶
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ يَهُودِيًّا رَضَّ رَأْسَ جَارِيَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ ، فَقِيلَ لَهَا : مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا ؟ أَفُلَانٌ أَوْ فُلَانٌ ؟ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى أَقَرَّ بِهِ ، فَرُضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ ".
انس بن مالک روایت:
ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا پھر اس لڑکی سے پوچھا گیا کہ یہ کس نے کیا ہے؟ فلاں نے، فلاں نے؟ آخر جب اس یہودی کا نام لیا گیا (تو لڑکی نے سر کے اشارہ سے ہاں کہا) پھر یہودی کو نبی کریم ﷺ کے یہاں لایا گیا اور اس سے پوچھ گچھ کی جاتی رہی یہاں تک کہ اس نے جرم کا اقرار کرلیا چنانچہ کا سر بھی پتھروں سے کچلا گیا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۷۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع قصاص ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا۔ لڑکی سے پوچھا گیا کہ یہ کس نے کیا، یہاں تک کہ اس یہودی کا نام لیا گیا۔ پھر اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا اور پوچھ گچھ ہوتی رہی، یہاں تک کہ اس نے جرم کا اقرار کر لیا۔ اس کے بعد اس کا سر بھی پتھروں سے کچلا گیا۔ حدیث میں یہ بات واضح ہے کہ واقعہ میں صرف الزام پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ پوچھ گچھ اور اقرار کا ذکر ہے۔ اس سے قصاص، جرم کے اقرار، اور قتل کے بدلے قانونی کارروائی کا پہلو سامنے آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قتل کے معاملے میں تحقیق اور اقرار کا ذکر اہم ہے۔
- ناحق قتل کا بدلہ قصاص کی صورت میں آ سکتا ہے۔
- انسانی جان پر ظلم کو معمولی نہیں سمجھا گیا۔
