صحیح بخاری حدیث ۶۸۷۷ - مقتولہ کے اشارے سے قاتل کی پہچان
مقتولہ کے اشارے سے قاتل کی پہچان اور قصاص
صحیح بخاری : ۶۸۷۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۷۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : خَرَجَتْ جَارِيَةٌ عَلَيْهَا أَوْضَاحٌ بِالْمَدِينَةِ ، قَالَ : فَرَمَاهَا يَهُودِيٌّ بِحَجَرٍ ، قَالَ : فَجِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبِهَا رَمَقٌ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فُلَانٌ قَتَلَكِ ؟ فَرَفَعَتْ رَأْسَهَا ، فَأَعَادَ عَلَيْهَا ، قَالَ : فُلَانٌ قَتَلَكِ ؟ فَرَفَعَتْ رَأْسَهَا ، فَقَالَ لَهَا فِي الثَّالِثَةِ : فُلَانٌ قَتَلَكِ ؟ فَخَفَضَتْ رَأْسَهَا ، فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَقَتَلَهُ بَيْنَ الْحَجَرَيْنِ " .
انس بن مالک روایت:
مدینہ منورہ میں ایک لڑکی چاندی کے زیور پہنے باہر نکلی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر اسے ایک یہودی نے پتھر سے مار دیا۔ جب اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو ابھی اس میں جان باقی تھی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ اس پر لڑکی نے اپنا سر (انکار کے لیے) اٹھایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ لڑکی نے اس پر بھی اٹھایا۔ تیسری مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، فلاں نے تمہیں مارا ہے؟ اس پر لڑکی نے اپنا سر نیچے کی طرف جھکا لیا (اقرار کرتے ہوئے جھکا لیا) چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلایا تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو پتھروں سے کچل کر اسے قتل کرایا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۷۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع قصاص اور قاتل کی پہچان ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مدینہ میں ایک لڑکی چاندی کے زیور پہنے نکلی، پھر ایک یہودی نے اسے پتھر سے مارا۔ جب اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو اس میں جان باقی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نام لے کر پوچھا، پہلے دو مرتبہ اس نے سر اٹھا کر انکار کیا، تیسری مرتبہ جب صحیح شخص کا نام لیا گیا تو اس نے سر جھکا کر اقرار کیا۔ پھر اس شخص کو بلایا گیا اور قصاص لیا گیا۔ حدیث میں انصاف، سوال، جواب، اشارے سے پہچان، اور قاتل کے خلاف کارروائی کا ذکر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قتل کے معاملے میں قاتل کی پہچان کی کوشش کی گئی۔
- مقتولہ کے اشارے کو واقعے کے بیان میں اہم جگہ دی گئی۔
- ظلم کے بعد قصاص کا حکم نافذ کیا گیا۔
