صحیح بخاری حدیث ۶۸۷۵ - دو مسلمانوں کی تلوار والی لڑائی
دو مسلمان تلوار لے کر لڑیں تو انجام خطرناک ہے
صحیح بخاری : ۶۸۷۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۷۵
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، وَيُونُسُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : ذَهَبْتُ لِأَنْصُرَ هَذَا الرَّجُلَ ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرَةَ ، فَقَالَ : أَيْنَ تُرِيدُ ؟ قُلْتُ : أَنْصُرُ هَذَا الرَّجُلَ ، قَالَ : ارْجِعْ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ ، قَالَ : إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ " .
احنف بن قیس روایت:
میں ان صاحب (علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ) کی جنگ جمل میں مدد کے لیے تیار تھا کہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی۔ انہوں نے پوچھا، کہاں کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا کہ ان صاحب کی مدد کے لیے جانا چاہتا ہوں۔انہوں نے فرمایا کہ واپس چلے جاؤ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جب دو مسلمان تلوار کھینچ کر ایک دوسرے سے بھڑ جائیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخ میں جاتے ہیں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک تو قاتل تھا لیکن مقتول کو سزا کیوں ملے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بھی اپنے قاتل کے قتل پر آمادہ تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۷۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع مسلمانوں کی باہمی لڑائی اور قتل کا ارادہ ہے۔ احنف بن قیس بیان کرتے ہیں کہ وہ جنگ میں مدد کے لیے جانا چاہتے تھے، تو ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں واپس جانے کو کہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنائی کہ جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ ایک دوسرے سے بھڑ جائیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخ میں ہیں۔ سوال ہوا کہ قاتل تو قاتل ہے، مقتول کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنے پر آمادہ تھا۔ اس حدیث میں صرف عمل نہیں بلکہ قتل کی نیت اور آمادگی کی سنگینی بھی بیان ہوئی ہے۔ مسلمان کو ایسی لڑائی سے بچنا چاہیے جس کا مقصد دوسرے مسلمان کی جان لینا ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمانوں کی باہمی تلوار والی لڑائی بہت خطرناک ہے۔
- قتل کا ارادہ بھی سخت قابل گرفت ہو سکتا ہے۔
- فتنے اور خونریزی والی لڑائی سے بچنا چاہیے۔
