صحیح بخاری حدیث ۶۸۷۴ - مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانے کی ممانعت
مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانا سخت منع ہے
صحیح بخاری : ۶۸۷۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۷۴
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ ، فَلَيْسَ مِنَّا " ، رَوَاهُ أَبُو مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
عبداللہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۷۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ الفاظ مختصر ہیں مگر معنی بہت سنجیدہ ہیں۔ اس حدیث میں مسلمانوں کے خلاف مسلح فساد، خوف پھیلانے اور جان کو خطرے میں ڈالنے سے روکا گیا ہے۔ یہاں ہتھیار اٹھانے کا مطلب صرف ایک ظاہری عمل نہیں، بلکہ ایسا رویہ بھی ہے جس سے مسلمان معاشرے میں خونریزی اور بدامنی پیدا ہو۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ مسلمان کا ہاتھ امن، حفاظت اور حق کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ اپنے ہی لوگوں کے خلاف ظلم اور قتل کے لیے۔ جان کی حرمت اور باہمی امن اس حدیث کے اہم نکات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانا سخت منع ہے۔
- امن کو خراب کرنے والا عمل دینی لحاظ سے بہت خطرناک ہے۔
- مسلمان کو دوسرے مسلمان کی جان اور سلامتی کا خیال رکھنا چاہیے۔
